ویٹیکن سٹی: کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہار دہم (Pope Leo XIV) نے ایک تاریخی اقدام اٹھاتے ہوئے صدیوں قبل چرچ کی جانب سے غلامی کے نظام کو قانونی تحفظ دینے اور اس کی مذمت کرنے میں ناکامی پر باضابطہ معافی مانگ لی ہے۔
پوپ لیو نے اپنی پہلی اہم دستاویز (انسائیکلوکل)، جس کا عنوان "میگنیفیکا ہیومینٹس” (Magnificent Humanity) ہے، میں اس حقیقت کا اعتراف کیا کہ ماضی میں ویٹیکن کے جاری کردہ احکامات نے یورپی حکمرانوں کو ‘کفار’ اور غیر مسیحیوں کو غلام بنانے، ان کی زمینیں ہتھیانے اور انہیں محکوم رکھنے کا اختیار دیا تھا۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے کہ کسی پوپ نے ذاتی طور پر چرچ کے ان سابقہ فیصلوں پر معافی مانگی ہے جو غلامی کی بنیاد بنے۔
یہ بھی پڑھیں:
پوپ لیو XIV کی ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والوں کو سخت وارننگ، AI artificial inteligence پر پہلا ’’انسائیکلوکل‘‘ جاری
"عیسائی تاریخ کا ایک گہرا زخم”
اپنی دستاویز میں پوپ لیو نے لکھا، "ان تمام لوگوں کی تکالیف اور تذلیل پر گہرے دکھ کا اظہار نہ کرنا ناممکن ہے، جنہیں ان کی انسانی عظمت کے باوجود غلام بنایا گیا۔ چرچ کی جانب سے، میں خلوصِ نیت کے ساتھ معافی کا طلبگار ہوں۔” انہوں نے تسلیم کیا کہ چرچ کو یہ سمجھنے میں 18 صدیاں لگ گئیں کہ انسانی وقار اور غلامی کا نظام ایک ساتھ نہیں چل سکتے، اور اس تاخیر کو انہوں نے "عیسائی تاریخ کا ایک گہرا زخم” قرار دیا۔
تاریخی تناظر اور ‘ڈاکٹرائن آف ڈسکوری’
15 ویں صدی میں پوپ نکولس پنجم سمیت دیگر پوپوں نے ایسے احکامات (Papal Bulls) جاری کیے تھے جن کے تحت پرتگالی اور ہسپانوی بادشاہوں کو افریقہ اور امریکا میں غیر مسیحیوں کو غلام بنانے اور ان کے علاقوں پر قبضہ کرنے کا ‘قانونی جواز’ ملا۔ یہی احکامات بعد میں ‘ڈاکٹرائن آف ڈسکوری’ کی بنیاد بنے، جس نے نوآبادیاتی دور میں انسانی استحصال کو فروغ دیا۔
مصنوعی ذہانت اور جدید دور کی غلامی
پوپ لیو، جو کہ امریکا میں پیدا ہونے والے پہلے پوپ ہیں اور خود بھی غلاموں اور غلام مالکان کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں، نے یہ معافی ایسے وقت میں مانگی ہے جب وہ پوری دنیا کو مصنوعی ذہانت (AI) کے انسانیت پر اثرات سے خبردار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ماضی میں چرچ غلامی کو روکنے میں ناکام رہا، اسی طرح آج ڈیجیٹل انقلاب اور مصنوعی ذہانت کی آڑ میں نئی قسم کی غلامی اور نوآبادیاتی نظام جنم لے رہا ہے، جسے روکنا چرچ کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔
عالمی حلقوں کی جانب سے پذیرائی
مورخین اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس اقدام کو سراہا ہے۔ یونیورسٹی آف ڈیٹن کی مورخ شینن ڈی ولیمز نے اسے "حق گوئی کی جانب ایک تاریخی قدم” قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معافی چرچ کے اخلاقی وقار کو بحال کرنے کے لیے ناگزیر تھی، کیونکہ کیتھولک چرچ کی تاریخ میں وائٹ سپریمیسی (سفید فام بالادستی) اور غلامی کے نظام میں اس کی شمولیت کے داغ دھونے کے لیے یہ پہلا ٹھوس اقدام ہے۔
پوپ لیو XIV کا یہ جرات مندانہ اعتراف، نہ صرف ماضی کے مظالم کی تلافی کی ایک کوشش ہے، بلکہ آنے والے وقتوں میں ٹیکنالوجی کے نام پر انسانیت کے استحصال کے خلاف ایک انتباہ بھی ہے۔

