ایسیرا، اٹلی: کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہار دہم (Pope Leo XIV) نے اٹلی کے علاقے ‘ایسیرا’ کا دورہ کیا، جو غیر قانونی طور پر زہریلا فضلہ پھینکنے (Toxic Waste Dumping) کے باعث ‘لینڈ آف فائرز’ کے نام سے بدنام ہے۔ اپنے دورے کے دوران پوپ نے منافع کے لالچ میں ماحول کو تباہ کرنے والی کمپنیوں اور تنظیموں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
نیپلز کے قریب واقع اس علاقے میں، جہاں برسوں سے مافیا سے منسلک گروہ غیر قانونی طور پر زہریلا کچرا تلف کرتے رہے ہیں، پوپ نے ان خاندانوں سے ملاقات کی جنہوں نے اس آلودگی کے نتیجے میں اپنے پیاروں کو کھو دیا۔ یورپی عدالتِ انسانی حقوق بھی یہ تسلیم کر چکی ہے کہ حکام اس علاقے کے رہائشیوں کو ماحولیاتی تباہی سے بچانے میں ناکام رہے ہیں، جس کی وجہ سے وہاں کینسر جیسی جان لیوا بیماریوں کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔
اپنے چار گھنٹے طویل دورے میں، پوپ لیو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "چند افراد کے اندھا دھند گھوم پھر کر انہی کے پاس آنیوالے منافع’ (dizzying profits) کی خاطر لوگوں کی ضروریات، ان کے کام اور ان کے مستقبل کو نظر انداز کرنا ایک سنگین جرم ہے۔” انہوں نے کہا کہ وہ یہاں ان خاندانوں کے آنسو جمع کرنے آئے ہیں جن کے پیارے ان بے ضمیر لوگوں کے ہاتھوں مارے گئے جو طویل عرصے سے قانون کی گرفت سے دور اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
پوپ نے زور دیا کہ ایسی قوتوں کو مسترد کیا جائے جو زمین، پانی اور ہوا کو آلودہ کرکے اقتدار اور دولت حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ یاد رہے کہ فروری 2025 میں اطالوی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی نے اس ماحولیاتی بحران سے نمٹنے اور متاثرین کی مدد کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس قائم کی تھی، جبکہ یورپی عدالت نے اطالوی حکومت کو زہریلے فضلے کے مقامات کا ڈیٹا بیس بنانے کے لیے دو سال کا وقت دیا ہے۔
پوپ لیو XIV کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب انہوں نے اپنی پہلی بڑی’’ انسائیکلوکل‘‘ (تعلیمی دستاویز) جاری کی ہے۔ "میگنیفیکا ہیومینٹس” (Magnificent Humanity) کے عنوان سے یہ دستاویز مصنوعی ذہانت (AI) کے انسانیت پر اثرات، جنگوں میں اس کے استعمال اور مزدوروں کے حقوق پر مرکوز ہے ، جس میں ٹیکنالوجی کے اخلاقی اور سماجی پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔
In the era of #ArtificialIntelligence, when human dignity is threatened by new forms of dehumanization, ours is the pressing duty to remain profoundly human. We must lovingly safeguard the grandeur of humanity bestowed upon us and revealed in its fullness in Christ, the splendor…
— Pope Leo XIV (@Pontifex) May 25, 2026
’ انسائیکلوکل‘‘ کیا ہے؟
یہ ایک ‘پاسٹورل لیٹر’ (نصیحت بھرا خط) ہوتا ہے جس کا مقصد کلیسیا کے تمام بشپس (مذہبی پیشواؤں) اور دنیا بھر کے کیتھولک مسیحیوں کو کسی خاص اخلاقی، سماجی، یا مذہبی مسئلے پر رہنمائی فراہم کرنا ہوتا ہے۔
لفظی مطلب: لفظ "انسائیکلوکل” یونانی زبان کے لفظ egkyklios سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے "گول گھومنے والا” یا "دائرہ کار”۔ قدیم دور میں یہ ایک ایسے ‘سرکلر لیٹر’ (Circular Letter) کو کہا جاتا تھا جو مختلف علاقوں میں معلومات کی ترسیل کے لیے بھیجا جاتا تھا۔
یہ پوپ کی طرف سے جاری کردہ سب سے باوقار دستاویزات میں سے ایک ہے۔ اگرچہ یہ کوئی قانونی حکم نامہ نہیں ہوتا جس کی خلاف ورزی پر سزا دی جائے، لیکن تمام کیتھولک مسیحیوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اسے سنجیدگی سے لیں اور اس میں دی گئی تعلیمات کو اپنی زندگی اور اخلاقی فیصلوں میں شامل کریں۔
انسائیکلوکل کا عنوان عام طور پر اس کے پہلے چند لاطینی الفاظ سے لیا جاتا ہے۔ مثلاً پوپ فرانسس کی مشہور ماحولیاتی دستاویز کا عنوان Laudato si’ ("تمہاری حمد ہو”) تھا۔موضوعات: ماضی میں انسائیکلوکلز کے ذریعے ورکرز کے حقوق (جیسے Rerum novarum)، عالمی امن، خاندانی زندگی، اور ماحولیات جیسے اہم عالمی موضوعات پر چرچ کا موقف واضح کیا گیا ہے۔ آسان الفاظ میں، یہ پوپ کی جانب سے جاری کردہ ایک ایسا عوامی تعلیمی خط ہے جس کے ذریعے وہ چرچ اور پوری دنیا کو اہم عصری مسائل پر اپنا وژن اور اخلاقی نقطہ نظر پیش کرتے ہیں۔

