واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور جوہری پروگرام پر مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، تاہم ابھی بھی چند اہم نکات طے کیے جانے باقی ہیں۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی معاہدے پر دستخط کے قریب ہیں، واضح کیا کہ "یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ دونوں فریق کب اور کیا کسی معاہدے کو حتمی شکل دیں گے۔”
معاہدے کا ممکنہ فریم ورک
اطلاعات کے مطابق زیرِ غور معاہدے میں جنگ بندی میں 60 دن کی توسیع اور ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل پر تفصیلی بات چیت کا آغاز شامل ہے۔ جمعرات کو امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ دونوں ممالک ایک فریم ورک پر متفق ہو چکے ہیں اور اب صرف اعلیٰ قیادت کی منظوری کا انتظار ہے۔ تاہم، ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘تسنیم’ نے ان دعووں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے کو نہ تو حتمی شکل دی گئی ہے اور نہ ہی اس کی باضابطہ تصدیق ہوئی ہے۔
نائب امریکی صدر نے تصدیق کی کہ مذاکرات کار اس وقت معاہدے کی دستاویز میں استعمال ہونے والی مخصوص الفاظ و اصطلاحات پر بات کر رہے ہیں، جس میں "یورینیم کی افزودگی” کا حساس معاملہ بھی شامل ہے۔ امریکہ کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ ایران نہ صرف یورینیم کی افزودگی کو روکے بلکہ اپنے پاس موجود ذخائر کو بھی ختم کرے، کیونکہ مغرب کا ماننا ہے کہ یہ افزودہ یورینیم جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہو سکتا ہے۔
واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران جے ڈی وینس کا لہجہ کافی پرامید تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ابھی ہم حتمی معاہدے تک نہیں پہنچے، لیکن اس کے "بہت قریب” ہیں اور انتظامیہ اس پر کام جاری رکھے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کو یقین ہے کہ ایرانی فریق اس بار "نیک نیتی” کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان یہ پیش رفت خطے میں امن کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے، تاہم جوہری پروگرام جیسے تکنیکی اور حساس معاملات پر اتفاقِ رائے ہی اس معاہدے کی کامیابی کا اصل امتحان ہوگا
امریکہ-ایران مذاکرات: معاہدے کے قریب، مگر اہم رکاوٹیں بدستور برقرار، جے ڈی وینس

