Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      ڈھائی سیکنڈ میں 96 کلومیٹر فی گھنٹہ اسپیڈ، فراری کی پہلی الیکٹرک گاڑی ’لوس‘ لانچ ، قیمت اور خصوصیات جانئیے

      جدید ٹیکنالوجی کا  انقلابی استعمال،ڈرونز کے ذریعے حجاج کرام تک ادویات اور طبی سامان کی فراہمی 

      تاریخ کا پہیہ گھوم گیا: غلامی کو جائز قرار دینے پر پوپ لیو XIV کی معافی ،ویٹیکن نے AI کو نئی غلامی قراردیدیا،”میگنیفیکا ہیومینٹس” جاری

      پوپ لیو XIV کی ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والوں کو سخت وارننگ، AI artificial inteligence پر پہلا ’’انسائیکلوکل‘‘ جاری

      اے ٹی ایم فراڈ : اسٹیٹ بینک نے تمام بینکوں کو بڑا حکم جاری کردیا

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

      خارگ جزیرے پر ممکنہ امریکی حملہ ، لیگو ویڈیو جاری

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    عطائیت کا ناسور: مریض، ڈاکٹر اور نظامِ صحت کب تک یرغمال؟

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر: ڈاکٹر محمد عبدالرؤف

    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    پاکستان کا نظامِ صحت کئی دہائیوں سے انتظامی کمزوریوں، ناقص پالیسیوں اور وسائل کی کمی جیسے مسائل کا شکار ہے، مگر ان تمام بحرانوں میں سب سے خطرناک اور تباہ کن مسئلہ “عطائیت” ہے۔ غیر مستند اور غیر تربیت یافتہ افراد کی جانب سے طبابت کا غیر قانونی عمل نہ صرف انسانی جانوں سے کھیل رہا ہے بلکہ مستند، رجسٹرڈ اور قانونی طبی ماہرین کے وقار، اعتماد اور پیشہ ورانہ حیثیت کو بھی شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ عطائی صرف وہ شخص نہیں جو کسی گاؤں یا چھوٹے علاقے میں غیر قانونی کلینک چلا رہا ہو، بلکہ ہر وہ فرد عطائی ہے جو خود کو ڈاکٹر ظاہر کرے، بغیر اہلیت کے ادویات تجویز کرے، غیر قانونی طریقۂ علاج اپنائے، انجیکشن اور ڈرپس کا بے دریغ استعمال کرے یا علاج کے جھوٹے دعووں کے ذریعے مریضوں کو دھوکہ دے۔ پاکستان میں دیہات سے لے کر بڑے شہروں تک ایسے افراد نے صحت کا ایک غیر رسمی اور خطرناک متوازی نظام قائم کر رکھا ہے، جو عوام کی لاعلمی، غربت، کمزور نگرانی اور فوری و سستے علاج کی خواہش سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ تشویشناک حقیقت یہ ہے کہ متعدد شکایات اور وقتی کارروائیوں کے باوجود بہت سے عطائی برسوں سے کھلے عام اپنا کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کبھی کبھار نمائشی چھاپے مارے جاتے ہیں، چند دن کے لیے کلینک سیل ہوتے ہیں، میڈیا پر بیانات دیے جاتے ہیں، مگر کچھ عرصے بعد وہی افراد دوبارہ اسی دھڑلے سے مریضوں کا علاج شروع کر دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے کہ نظامِ صحت اس سنگین خطرے کا مستقل خاتمہ کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے؟ اس صورتحال میں Punjab Healthcare Commission (PHC) اور Pakistan Medical and Dental Council (PMDC) کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کا مقصد غیر قانونی طبی مراکز کی نگرانی اور صحت کی سہولیات کو ریگولیٹ کرنا ہے، جبکہ PMDC مستند ڈاکٹروں کی رجسٹریشن، طبی تعلیم اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کی نگرانی کا ذمہ دار ادارہ ہے۔ لیکن زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ ان اداروں کی موجودگی کے باوجود عطائیت بدستور خطرناک حد تک پھیل رہی ہے۔ اس ناکامی کی ایک بڑی وجہ نظام میں موجود سنگین خامیاں، کمزور نگرانی اور غیر مؤثر نفاذ ہے۔ غیر قانونی کلینکس اور جعلی معالجین کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ موجودہ انسپیکشن سسٹم ان پر مکمل نظر رکھنے سے قاصر دکھائی دیتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ بعض اوقات کارروائیاں سیاسی دباؤ، سفارش، رشوت اور بدعنوانی کی نذر ہو جاتی ہیں۔ کئی معاملات میں غیر قانونی پریکٹیشنرز کے خلاف کارروائی یا تو روک دی جاتی ہے، نرم کر دی جاتی ہے یا خاموشی سے ختم کر دی جاتی ہے۔ یہی وہ تلخ حقیقت ہے جس نے عطائیت کے خلاف مہم کو کمزور اور غیر مؤثر بنا دیا ہے۔
    ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ عطائیوں کے خلاف سخت اور عبرتناک سزاؤں کا فقدان ہے۔ بہت سے افراد شناخت اور جرمانے کے باوجود چند دن یا ہفتوں بعد دوبارہ طبابت شروع کر دیتے ہیں۔ جب قانون کی گرفت مستقل اور سخت نہ ہو تو یہ پیغام جاتا ہے کہ غیر قانونی طبابت کوئی سنگین جرم نہیں بلکہ ایک قابلِ برداشت خطرہ ہے۔ نتیجتاً غلط ادویات، اینٹی بائیوٹکس کے بے جا استعمال، ناقص علاج اور لاپرواہی کے باعث انفیکشنز، پیچیدگیاں، مستقل معذوریاں اور اموات تک واقع ہو رہی ہیں، مگر احتساب کا نظام کمزور ہی رہتا ہے۔
    اس تمام صورتحال کا سب سے زیادہ منفی اثر قانونی اور مستند ڈاکٹروں، خصوصاً جنرل پریکٹیشنرز پر پڑتا ہے۔ ایک طرف وہ ڈاکٹر ہیں جنہوں نے برسوں کی محنت، تعلیم، امتحانات، کلینیکل تربیت اور رجسٹریشن کے مراحل طے کیے، جبکہ دوسری طرف غیر تربیت یافتہ افراد ہیں جو جھوٹے دعووں، کم فیس اور غیر اخلاقی تشہیر کے ذریعے مریضوں کو اپنی طرف راغب کرتے ہیں۔ اس سے حقیقی طبی ماہرین میں مایوسی، مالی دباؤ اور پیشہ ورانہ عدم تحفظ بڑھ رہا ہے۔
    Pakistan Medical Association (PMA) جو کبھی ڈاکٹروں کی ایک مضبوط نمائندہ تنظیم سمجھی جاتی تھی، آج ایک محدود کردار تک سمٹتی جا رہی ہے۔ دھمکیوں، سیاسی دباؤ، انتظامی بے حسی اور انتقامی کارروائیوں کے خوف نے طبی تنظیموں کی آواز کو کمزور کر دیا ہے۔ بہت سے ڈاکٹر غیر قانونی پریکٹس کے خلاف کھل کر بات کرنے سے ہچکچاتے ہیں کیونکہ انہیں ہراسانی، مقامی دباؤ یا پیشہ ورانہ مسائل کا خدشہ ہوتا ہے۔ یہ خاموشی بالآخر اسی نظام کو مضبوط کرتی ہے جو مریضوں کے استحصال اور طبی پیشے کی بدنامی کا سبب بن رہا ہے۔
    بدقسمتی سے عوامی شعور بھی اس مسئلے کے حل میں خاطر خواہ کردار ادا نہیں کر پا رہا۔ معاشرے کا ایک بڑا طبقہ آج بھی مستند ڈاکٹر اور جعلی معالج کے درمیان فرق سے پوری طرح آگاہ نہیں۔ کم فیس، فوری آرام اور جذباتی دعوے اکثر لوگوں کو متاثر کر دیتے ہیں، جبکہ وہ اس کے طویل المدتی نقصانات سے بے خبر رہتے ہیں۔ اکثر مریض اس وقت مستند ڈاکٹر کے پاس پہنچتے ہیں جب بیماری پیچیدہ اور نقصان ناقابلِ تلافی ہو چکا ہوتا ہے۔
    عطائیت جیسے سنگین مسئلے کا حل صرف نمائشی کارروائیوں، وقتی سیلنگ یا میڈیا بیانات میں نہیں بلکہ ایک مضبوط، شفاف اور غیر جانبدار نظام میں پوشیدہ ہے۔ غیر قانونی طبابت کو ناقابلِ ضمانت اور سنگین فوجداری جرم قرار دیا جانا چاہیے۔ بھاری جرمانے، قید، مستقل بندش اور بار بار جرم کرنے والوں پر سخت قانونی پابندیاں ناگزیر ہیں۔ PMDC اور PHC کے درمیان ایک مربوط ڈیجیٹل تصدیقی نظام قائم کیا جانا چاہیے تاکہ عوام آسانی سے ہر رجسٹرڈ ڈاکٹر کی اہلیت کی تصدیق کر سکیں۔ تمام کلینکس، اسپتالوں، لیبارٹریوں اور فارمیسیوں پر رجسٹریشن نمبرز واضح طور پر آویزاں کرنا لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
    اس کے ساتھ ساتھ ایسے ڈاکٹروں اور طبی عملے کو قانونی تحفظ دینا بھی ضروری ہے جو غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ ایک مؤثر نظامِ صحت اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتا جب تک مستند معالجین خود کو غیر محفوظ، نظر انداز یا بے توقیر محسوس کرتے رہیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک ایسا ماحول فراہم کرے جہاں اخلاقی اور قانونی طبی پریکٹس کو عزت، تحفظ اور فروغ حاصل ہو۔
    عطائیت کے خلاف جنگ صرف ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ جدوجہد نہیں بلکہ یہ صحتِ عامہ، ریاستی رٹ، طبی اخلاقیات اور معاشرتی ذمہ داری کا ایک بڑا امتحان ہے۔ کوئی بھی ملک اس وقت تک مضبوط نظامِ صحت قائم نہیں کر سکتا جب تک انسانی جانوں کا فیصلہ غیر تربیت یافتہ اور غیر ذمہ دار افراد کے ہاتھوں میں رہے۔ اگر آج بھی اس ناسور کے خلاف غیر جانبدار، سخت اور کرپشن سے پاک اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں اس کے نتائج مزید خطرناک اور ناقابلِ تلافی ثابت ہوں گے۔

    Related Posts

    قربانی یا آلودگی؟ عید پر صحتِ عامہ کو درپیش خطرات عید قرباں: عبادت بھی، صحت کی آزمائش بھی

    ہم کب سیکھیں گے؟

    ”پاکستانی تاریخ کے سپیڈبریکر “ میاں حبیب کا کالم

    مقبول خبریں

    آصف علی زرداری سے زرداری ہاؤس میں منتخب نمائندوں اور معززین کی عید ملاقاتیں

    ”اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو، نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہوجائے“ معروف شاعر ڈاکٹر بشیر بدر انتقال کر گئے

    بارشیں ہی بارشیں، شہریوں نے مری کا رخ کرلیا، 10 دن تک بارشوں کی پیشگوئی

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی کامیاب سرجری، ہسپتال سے چھٹی کے بعد گھر منتقل

    مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کا اثر: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد کا اضافہ

    بلاگ

    عطائیت کا ناسور: مریض، ڈاکٹر اور نظامِ صحت کب تک یرغمال؟

    قربانی یا آلودگی؟ عید پر صحتِ عامہ کو درپیش خطرات عید قرباں: عبادت بھی، صحت کی آزمائش بھی

    ہم کب سیکھیں گے؟

    ”پاکستانی تاریخ کے سپیڈبریکر “ میاں حبیب کا کالم

    حج — کس کو بلاوا آیا اور کس کا حج قبول ہوا؟

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.