واشنگٹن/تہران: امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے دونوں ممالک نے 60 روزہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے فریم ورک پر اتفاق کر لیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق اس معاہدے کے تحت جنگ بندی میں توسیع اور ایران کے جوہری پروگرام پر تفصیلی مذاکرات کا عمل شروع کیا جائے گا۔
معاہدے کی اہم تفصیلات
امریکی نیوز ویب سائٹ ‘ایگزیوس’ کی رپورٹ کے مطابق، اس سفارتی پیش رفت میں کئی اہم نکات شامل ہیں:
جنگ بندی اور جہاز رانی: آبنائے ہرمز میں جہاز رانی مکمل طور پر بحال ہوگی، جس کے لیے ایران 30 روز کے اندر وہاں سے بارودی سرنگیں ہٹانے کا پابند ہوگا۔ اس کے بدلے میں امریکہ مرحلہ وار اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔
جوہری پروگرام: ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کے عزم کا اعادہ کرے گا۔ 60 روزہ مدت کے دوران یورینیم افزودگی اور ذخائر کو ختم کرنے کے طریقہ کار پر بات چیت کی جائے گی۔
اقتصادی رعایت: امریکہ مذاکرات کے دوران ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی اور منجمد فنڈز کی بحالی پر بات چیت کرنے کا عہد کرے گا۔
معاہدہ صدر ٹرمپ کی منظوری کا منتظر
اعلیٰ امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ معاہدے کی زیادہ تر شرائط پر اتفاق رائے ہو چکا ہے، تاہم وائٹ ہاؤس نے وضاحت کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک اس دستاویز پر دستخط نہیں کیے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ثالثوں کو بتایا ہے کہ انہیں معاہدے کے تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لینے کے لیے چند دن درکار ہیں۔
دوسری جانب، ایران کی پارلیمنٹ کے رکن فدا حسین مالکی نے تصدیق کی ہے کہ بات چیت میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے اور ایران کی بیشتر تجاویز کو قبول کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی حکام کی کوششیں منجمد فنڈز کی بحالی پر مرکوز ہیں، تاہم انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ صدر ٹرمپ کا غیر مستقل مزاج رویہ معاملات میں پیچیدگی پیدا کر سکتا ہے۔
اگر یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے، تو یہ جنگ کے آغاز کے بعد سے سب سے بڑی سفارتی کامیابی ہوگی۔ تاہم، تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام اور دیگر بنیادی مطالبات کو پورا کرنے کے لیے ابھی مزید سخت اور تفصیلی مذاکرات کی ضرورت ہوگی۔ وائٹ ہاؤس نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک مفاہمتی یادداشت زیرِ غور ہے، جس کے مستقبل کا انحصار اگلے 60 دنوں کے مذاکراتی عمل پر ہوگا۔
امریکا ایران امن معاہدے میں بڑی پیش رفت: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حتمی منظوری کا انتظار، ایگزیوس

