Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی: مائیکروسافٹ نے تاریخ کی سب سے بڑی سیکیورٹی اپ ڈیٹ جاری کر دی،

      بھارت کی ہٹ دھرمی : عالمی عدالت کے فیصلے کے باوجودمتنازع منصوبے ساولکوٹ ڈیم کے ٹینڈر جاری

      چیٹ جی پی ٹی کے نئے امیجز فیچر نے تہلکہ مچا دیا

      آئی فون 18 پرو، پہلے فولڈ ایبل آئی فون اور نئی واچز کی رونمائی کب کہاں ہوگی؟

      اے آئی کی دوڑ، میٹا نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹ متعارف کرادیا، پے منٹس سمیت ہر دفتری کام کرے گا

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    حج — کس کو بلاوا آیا اور کس کا حج قبول ہوا؟

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریرڈاکٹردائود
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    قرآن کی روشنی میں “بلاوے” اور “قبولیت” سے متعلق غلط فہمیاں
    ہر سال حج کے موسم میں ایک جملہ پوری مسلم دنیا میں بار بار سننے کو ملتا ہے:
    “صرف وہی شخص حج پر جاتا ہے جسے اللہ بلاتا ہے۔”
    اس کے ساتھ ایک اور مقبول تصور بھی بیان کیا جاتا ہے:
    “جس کا حج قبول ہو جائے، وہ ایسے پاک ہو جاتا ہے جیسے آج ہی پیدا ہوا ہو۔”
    یہ جملے بظاہر روحانی طور پر متاثر کن محسوس ہوتے ہیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان کی ایسی تشریحات سامنے آئی ہیں جو قرآن کے اصل پیغام سے ہٹتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ بہت سے معاشروں میں حج کو آہستہ آہستہ ایک “خصوصی روحانی انتخاب” کا درجہ دے دیا گیا ہے، جبکہ قرآن حج کو ذمہ داری، قربانی، تقویٰ، نظم و ضبط، اخلاص اور اخلاقی تبدیلی پر مبنی ایک عظیم عبادت قرار دیتا ہے۔
    قرآن کہیں یہ نہیں کہتا کہ صرف وہی لوگ مکہ پہنچتے ہیں جنہیں کوئی پراسرار غیبی دعوت نامہ موصول ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حج کو استطاعت سے مشروط کیا ہے، نہ کہ کسی پوشیدہ روحانی امتیاز سے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    “اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا فرض ہے جو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو۔”
    (سورۃ آل عمران 3:97)
    یہ آیت واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ حج ان لوگوں پر فرض ہے جو جسمانی، مالی اور سفری استطاعت رکھتے ہوں۔ اگر حج صرف ایک غیر مرئی “بلاوے” پر منحصر ہوتا، تو استطاعت کی شرط بے معنی ہو جاتی۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا “بلانا” ان مواقع کی صورت میں بھی ظاہر ہوتا ہے جو وہ انسان کو عطا کرتا ہے: صحت، وسائل، وقت، امن اور سچی نیت۔ لیکن افسوس کہ بعض لوگوں نے اس تصور کو اس حد تک تقدس دے دیا ہے کہ اگر کوئی شخص غربت، بیماری، ویزا مسائل، جنگی حالات یا خاندانی ذمہ داریوں کی وجہ سے حج نہ کر سکے تو اسے یوں محسوس کروایا جاتا ہے جیسے “اللہ نے اسے نہیں بلایا۔” یہ سوچ غیر ضروری روحانی احساسِ محرومی پیدا کرتی ہے، حالانکہ اللہ بندوں کے حالات اور نیتوں دونوں سے پوری طرح واقف ہے۔
    ایک اور عام غلط فہمی یہ ہے کہ جو بھی خانۂ کعبہ تک پہنچ جائے، وہ لازماً اللہ کا مقبول اور پسندیدہ بندہ بن جاتا ہے۔ تاریخ اس تصور کی تردید کرتی ہے۔ صدیوں سے ظالم حکمران، بدعنوان افراد، حرام کمائی کرنے والے اور بے ایمان تاجر بھی حج کرتے رہے ہیں۔ اس لیے مکہ پہنچ جانا بذاتِ خود قبولیت کی دلیل نہیں، بلکہ ایک اخلاقی اور روحانی امتحان کی ابتدا ہے۔
    قرآن نے حج کی اصل روح کو محض سفر یا رسومات تک محدود نہیں رکھا بلکہ اخلاقی اصلاح اور نفس کی تربیت سے جوڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    “پس جو شخص ان مہینوں میں حج کا ارادہ کرے، وہ نہ بے حیائی کرے، نہ گناہ اور نہ جھگڑا کرے۔”
    (سورۃ البقرہ 2:197)
    یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اصل حج کردار کی تبدیلی کا نام ہے۔ ایک شخص احرام پہن سکتا ہے، تمام مناسک ادا کر سکتا ہے، لیکن اگر واپسی پر بھی اس کی زندگی جھوٹ، دھوکہ، رشوت، ظلم، تکبر، استحصال، بددیانتی اور ناانصافی سے بھری رہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کے حج نے اس کے اندر کون سی تبدیلی پیدا کی؟
    قرآن قربانی کے حوالے سے بھی عبادت کی اصل روح کو یوں بیان کرتا ہے:
    “اللہ تک نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔”
    (سورۃ الحج 22:37)
    یہ اصول صرف قربانی تک محدود نہیں بلکہ پورے حج کے فلسفے کی بنیاد ہے۔ اللہ کو نہ مہنگے ہوٹل مطلوب ہیں، نہ وی آئی پی پیکیجز، نہ قیمتی احرام اور نہ ہی دکھاوے کی مذہبیت۔ اللہ کے ہاں اصل اہمیت اخلاص، عاجزی، توبہ، انصاف اور تقویٰ کی ہے۔
    افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ بعض معاشروں میں حج ایک روحانی انقلاب کے بجائے سماجی وقار کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ “حاجی صاحب” کا لقب تو فخر سے استعمال کیا جاتا ہے، مگر کاروباری دھوکہ دہی، رشوت، ملازمین کا استحصال، جھوٹ اور غیر اخلاقی رویے جوں کے توں باقی رہتے ہیں۔ ایسی صورت میں حج محض ایک جسمانی سفر رہ جاتا ہے، روحانی تبدیلی نہیں بنتا۔
    قبول حج کی اصل علامت نام کے ساتھ “حاجی” لگ جانا نہیں بلکہ انسان کے کردار میں مثبت تبدیلی ہے۔ زیادہ دیانتداری، نرم مزاجی، رحم دلی، انصاف، عاجزی اور اللہ کی اطاعت میں اضافہ — یہی قبولیت کی نشانیاں ہیں۔ اگر حج انسان کے اخلاق کو نہ بدلے تو اسے اپنے اس سفر کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔
    ایک اور نقصان دہ تصور یہ ہے کہ جو لوگ حج نہیں کر پاتے وہ شاید اللہ کے نزدیک کم محبوب ہیں۔ یہ سوچ بھی قرآن کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ اسلام میں نیت کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے۔ کتنے ہی لوگ دل سے حج کی خواہش رکھتے ہیں لیکن مالی مشکلات، بیماری، سیاسی رکاوٹوں یا خاندانی ذمہ داریوں کی وجہ سے نہیں جا پاتے۔ ان کی مجبوری اللہ کے نزدیک ان کی قدر کم نہیں کرتی۔ قرآن فرماتا ہے:
    “اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔”
    (سورۃ البقرہ 2:286)
    اصل سوال یہ نہیں کہ “کسے بلاوا آیا”، بلکہ یہ ہے کہ “کس نے اللہ کی پکار کا جواب اخلاص، تقویٰ، عاجزی اور اصلاحِ نفس کے ساتھ دیا۔” اللہ کی ہدایت سب انسانوں کے لیے ہے۔ اصل کامیابی صرف مکہ پہنچنے میں نہیں بلکہ ایک بدلے ہوئے دل کے ساتھ واپس آنے میں ہے۔
    حج انسان کو اس دن کی یاد دلاتا ہے جب سب انسان اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے — نہ دولت ساتھ ہو گی، نہ عہدہ، نہ قومیت اور نہ القابات۔ وہاں صرف اعمال، نیت اور کردار کا وزن ہو گا۔ دنیا کی عزت اور ظاہری شہرت اس دن بے معنی ہو جائیں گی۔ اصل اہمیت ایمان کی سچائی اور کردار کی پاکیزگی کی ہو گی۔
    لہٰذا یہ کہنا کہ:
    “صرف وہی شخص حج پر جاتا ہے جسے اللہ بلاتا ہے”
    ایک جذباتی جملہ تو ہو سکتا ہے، لیکن قرآن کا پیغام اس سے کہیں زیادہ متوازن اور گہرا ہے۔ اللہ نے حج کا راستہ ہر صاحبِ استطاعت انسان کے لیے کھولا ہے، جبکہ قبولیت کا فیصلہ صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے — کیونکہ وہ دلوں کے حال خوب جانتا ہے۔
    اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ

    Related Posts

    ملک غلام حسن سلہال — خدمت، شرافت اور عوامی وابستگی کی روشن مثال

    تین سالہ معطلی یا انصاف کا انتظار؟ — جب احتساب، خود ایک سزا بن جائے.

    ”ہنی ٹریپ کرتی انٹی کرپشن کا احتساب کب ہوگا ؟ “ ملک محمد سلمان کا کالم

    مقبول خبریں

    قبل از گرفتاری ضمانت   خارج گیپکو سب ڈویژن ہیڈ مرالہ کے ایگزیکٹو ایکسیئن گرفتار

    پولیس مقابلے میں اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے راہزن ہلاک

    ساس کا اپنی بہو اور اس کے یتیم بچوں پر  ساتھیوں مدد سے  تشدد

    ٹریفک حادثہ، راہگیر جاں بحق

    نئی آٹو پالیسی، مسودہ آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر

    بلاگ

    ملک غلام حسن سلہال — خدمت، شرافت اور عوامی وابستگی کی روشن مثال

    تین سالہ معطلی یا انصاف کا انتظار؟ — جب احتساب، خود ایک سزا بن جائے.

    ”ہنی ٹریپ کرتی انٹی کرپشن کا احتساب کب ہوگا ؟ “ ملک محمد سلمان کا کالم

    لاہور پریس کلب میں عشقِ رسول ﷺ کی خوشبو — خواتین صحافیوں کی یادگار محفلِ میلاد

    ناہید طالب: فن، صلاحیت اور خدمت کا روشن استعارہ

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.