تحریر: میاں حبیب
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

1947 کے بعد پاکستان کا سفر صرف بیرونی خطرات سے نہیں بلکہ ادارہ جاتی، فکری اور سیاسی حفاظتی انتظام کی کمزوریوں سے بھی متاثر ہوا قیام پاکستان کے بعد وسائل کی درست تقسیم کے لیے ہم خاطر خواہ انتظام نہ کر سکے جعلی کلیموں اور آلاٹمنٹوں کے راستے میں ہم کوئی سپیڈبریکر کھڑا نہ کر سکے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بےشمار حق داروں کو ان کا حق نہ مل سکا اور لوٹ مار کا ایسا بازار گرم ہوا جس پر آج تک قابو نہیں پایا جاسکا جعلی کلیموں اور آلاٹمنٹوں سے شروع ہونے والے سفر نے میرٹ کا بیڑہ غرق کردیا اور ساتھ ہی ساتھ جعلی ذاتوں نے بھی معاشرتی شناخت کو گڈ مڈ کر دیا اچھے بھلے صاحب کردار عزت دار لوگ اپنی شرافت میں مارے گئے وہ ٹکے ٹوکری ہو گئے جبکہ چاپلوس فراڈیے اور رنگ باز وسائل پر قابض ہو کر صاحب عزت بن گئے
ہم نے قیام پاکستان کے بعد آئین کی تشکیل کے راستے میں بےجا سپیڈبریکر کھڑے کر کے مستقل نظام قائم کرنے میں تاخیر کی جس نے غیر یقینی کی صورتحال پیدا کی اور طاقت واختیارات کی کشمکش کو فروغ دیا ہم نے مستقل نظام بنانے اس پر کاربند ہونے کی بجائے ملک کو ڈنگ ٹپاو طریقوں سے چلانا شروع کیا اور آج تک اس پالیسی پر عمل پیرا ہیں
صوبائی ہم آہنگی بھی ایسا معاملہ تھا جہاں ضروری حفاظتی بندوبست کمزور رہا پاکستان مختلف نسلی لسانی فرقہ وارانہ اور علاقائی شناختوں پر مشتمل ایک وفاق تھا اور ہے ہم نے آکائیوں کی شکایات کا ازالہ ممکن بنانے میں کوتاہی برتی بداعتمادی پیدا کی 1971 کا سانحہ اس حقیقت کی سب سے بڑی مثال ہے آج بھی ہم علاقائی مسائل فرقہ واریت ذات برادریوں کی سیاست سے باہر نہیں نکل پا رہے قومی سوچ کو فروغ دینے بارے ہماری سیاسی قیادتیں بانجھ دکھائی دیتی ہیں دوسری طرف دیکھا جائے تو ہم نے قوم کو گروہی معاملات میں الجھائے رکھا سیاسی جمہوری نظام کی آبیاری میں بےجا سپیڈبریکر قائم کیے جس سے قومی بیانیہ نہ پنپ سکا پاکستان مختلف نظاموں کامجموعہ اور تجربہ گاہ بن کر رہ گیا
ہم نے لانگ ٹرم منصوبہ بندی کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کیں اور شارٹ کٹ کے ذریعے دکھاوئے کے کام کیے جس سے ملک میں ترقی کا باعث بننے والے بڑے منصوبوں پر کام نہ ہو سکا ملک کی معیشت کو بھی ڈنگ ٹپاو اور سیاسی پالیسیوں کی بھینٹ چڑھا دیا گیا کبھی نیشنلائزڈ کرنے اور کبھی پرائیوٹائز کرنے کے چکروں سے باہر نہ نکل پائے ہم نے قومی منصوبوں کو متنازعہ بنا کر قومی یکجہتی کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کیں اور ان بےجا سپیڈبریکروں کو کبھی ختم کرنے کی کوشش نہیں کی
ہم نے قوم کی کردار سازی پر کبھی توجہ نہیں دی اخلاقی حدود کے تمام بیرئیر ختم کر کے معاشرے کو شتر بے مہار کر دیا جس کی وجہ سے آج معاشرہ برائی کو برائی نہیں سمجھ رہا میرٹ کے قتل عام رشوت سفارش دھونس دھاندلی زور زبردستی کو جائز تصور کر لیا گیا ہے لوگوں نے اخلاقیات کو پس پشت ڈال کر روپے پیسے کو دین مذہب سمجھ لیا ہے اور یہ تاثر گہرا ہو رہا ہے کہ جس کے پاس روپیہ پیسہ ہے وہ ہر چیز مینج کر سکتا ہے
پاکستان ایک ایٹمی طاقت کا حامل ملک ہے جس کی بےپناہ صلاحیت اور جغرافیائی اہمیت ہے اگر ہم اعتدال میں رہ کر خلوص نیت کے ساتھ معاملات کو چلانا چاہیں اور عوام کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھیں تو ترقی کے راستے میں قائم تمام سپیڈبریکر قوم خود ہی ختم کر لے گی پاکستان کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ وہ تاریخ سے سبق سیکھے کہ کہاں ہم نے سپیڈ کم کرکے احتیاط کرنی ہے اور کہاں ہم نے دوڑ کر آگے بڑھنا ہے کون سے سپیڈبریکر ضروری ہیں جو قوم کو محفوظ رکھ سکتے ہیں اور کون سے غیر ضروری ہیں جو قوم کو کمزور اور تقسیم کر رہے ہیں تاریخ بتاتی ہے کہ قومیں کسی ایک دشمن کی وجہ سے تباہ نہیں ہوتیں بلکہ اس وجہ سے تباہ ہوتی ہیں جب وہ ضروری بریک لگانا بھول جائیں اور حادثات کا شکار ہو کر گہری کھائی میں جا گریں یا اپنی ترقی کے راستے میں خود ہی رکاوٹیں کھڑی کرنا شروع کر دیں پاکستان کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ وہ صیح سپیڈبریکر تعمیر کرےاور غلط رکاوٹوں کو ہٹائے ملک کو مضبوط اداروں قانون کی حکمرانی، تعلیمی اصلاحات، ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری، میرٹ، صوبائی ہم آہنگی اور معاشی نظم وضبط درکار ہے یہی وہ ضروری حفاظتی دیواریں ہیں جو قومی ترقی کے سفر کو پٹڑی سے اترنے سے بچا سکتی ہیں اس کے ساتھ ہی بیوروکریسی کی غیر ضروری پیچیدگیوں سیاسی انتقام، بدعنوانی، عدم برداشت اور پالیسی کے عدم تسلسل جیسی رکاوٹوں کو کم کرنا ہو گا

