اسلام آباد
پاکستان میں ہنرمند اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ملک چھوڑنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ سرکاری دستاویزات اور اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے دوران اب تک 15,850 سے زائد اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانی بہتر روزگار اور مستقبل کی تلاش میں بیرونِ ملک منتقل ہو چکے ہیں۔ماہرین کے مطابق برین ڈرین (Brain Drain) کی اس لہر میں ڈاکٹرز، انجینیئرز، انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے ماہرین، اساتذہ اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کے پروفیشنلز بڑی تعداد میں شامل ہیں۔ ملک کے معاشی حالات اور بہتر پیشہ ورانہ مواقع کی کمی کو اس تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان کی بڑی وجوہات قرار دیا جا رہا ہے۔قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے ماضی کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو یہ بحران مزید واضح ہوتا ہے:سال 2024ء: کے دوران 45,830 اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانی بیرونِ ملک منتقل ہوئے تھے۔سال 2025ء: میں یہ تعداد 28,726 ریکارڈ کی گئی تھی۔معاشی اور تعلیمی حلقوں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ملک کے بہترین دماغوں کا اس طرح تسلسل کے ساتھ باہر چلے جانا پاکستان کے طویل مدتی ترقیاتی اہداف اور تعلیمی شعبے کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ ماہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومت کو فوری طور پر ایسی پالیسیاں وضع کرنی چاہئیں جن کے ذریعے نوجوانوں اور ہنرمند طبقے کو ملک ہی میں سازگار ماحول اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

