ٹیکنالوجی کی دنیا سے ایک انتہائی تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے جہاں اسرائیلی ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ کمپنی ’ڈسکور ٹیک‘ نے آن لائن اشتہارات کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے دنیا بھر کے انٹرنیٹ صارفین کی بڑے پیمانے پر جاسوسی کی ہے، ان کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی اور ان کے ڈیجیٹل آلات (موبائلز و کمپیوٹرز) کو ہیک کرنے میں مدد فراہم کی۔ جمعرات کے روز دو معروف تحقیقی اداروں کی جانب سے جاری کردہ رپورٹس میں اس گھناؤنے سائبر کرائم کا پردہ فاش کیا گیا ہے۔تحقیقی رپورٹس کے مطابق، ’ڈسکور ٹیک‘ کی ان مکروہ خدمات کے ذریعے اسرائیلی اسپائی ویئر کمپنی ’کینڈیرو‘ سمیت دیگر نگرانی کرنے والی کمپنیوں کو گوگل، کامکاسٹ اور روسی کمپنی یانڈیکس جیسے بڑے اداروں کے اشتہاری پلیٹ فارمز تک باآسانی رسائی حاصل ہوئی۔کینیڈا کے سائبر سکیورٹی کے ادارے ’سٹیزن لیب‘ اور نیویارک کی اشتہاری سکیورٹی فرم ’کونفائنٹ‘ (Confant) کی الگ الگ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ آن لائن اشتہارات کا کاروبار، جو طویل عرصے سے صارفین کی رازداری (Privacy) کے حوالے سے خدشات کا محور رہا ہے، اب حکومتوں اور نجی اداروں کی جانب سے بڑے پیمانے پر جاسوسی کی مہمات کے لیے بھی دائرہ کار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔سٹیزن لیب کے سینیئر محقق وولفی کرسٹل نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آن لائن اشتہارات کا موجودہ نظام عالمی سکیورٹی کے لیے ایک بنیادی خطرہ بن چکا ہے جو ریاستوں، نجی شعبے اور عام شہریوں کو یکساں طور پر متاثر کر رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق ڈسکور ٹیک کے وہ اشتہارات جن میں اکثر موبائل فونز اور ایئربڈز جیسی عام مصنوعات دکھائی جاتی تھیں، مختلف شراکت داروں کے توسط سے ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد ویب سائٹس اور 75 ہزار موبائل ایپس تک پہنچے۔ ان نقصان دہ اشتہارات والی ویب سائٹس کا رخ کرنے والے یا ایپس استعمال کرنے والے صارفین کی شناخت کرکے ان کی تمام سرگرمیوں کو مانیٹر کیا جاتا تھا، اور بعض صورتوں میں سمارٹ فون صارفین کے فون نمبرز تک چرانے کی کوشش کی گئی۔ جاسوسی کے لیے صرف اتنا کرنا پڑتا تھا کہ متعلقہ ویب سائٹ پر ہدف کا اشتہار لوڈ ہو جائے۔کینڈیرو اسپائی ویئر کا استعمال: تحقیقی اداروں کا کہنا ہے کہ ان میں سے بعض اشتہارات صارفین کے آلات میں کینڈیرو کا خطرناک اسپائی ویئر انسٹال کرنے میں مدد دیتے تھے۔ البتہ، کونفائنٹ فرم کے مطابق کینڈیرو سے جڑے ہوئے اشتہارات ڈسکور ٹیک کے مجموعی اشتہارات کا ایک معمولی حصہ تھے۔ واضح رہے کہ اسرائیلی اسپائی ویئر کمپنی کینڈیرو کو امریکی حکومت نے سنہ 2021 میں ہی بلیک لسٹ کر دیا تھا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈیجیٹل اشتہارات کا نیٹ ورک کس طرح عام شہریوں کی ذاتی زندگی میں خفیہ دخل اندازی اور جاسوسی کا آسان ترین ذریعہ بن چکا ہے۔

