نیویارک :پاکستان اور اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے جمعرات کو سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مملکت کی سکیورٹی اوراس کے دفاع کے حق کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
حالیہ دنوں میں سعودی عرب مسلسل حوثیوں کے حملوں کی زد میں آیا ہے، جن میں دارالحکومت ریاض کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کیے جانے والے متعدد حملے بھی شامل ہیں۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے جمعرات کو بتایا تھا کہ حوثیوں نے یکم اکتوبر سے اب تک ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر 20 حملے کیے ہیں۔ گذشتہ ہفتے کے اختتام پر ہونے والے ایک حملے میں 13 افراد جان سے گئے تھے جبکہ 300 سے زائد زخمی ہوئے۔
اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن کے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان کے مطابق مشرق وسطیٰ پر اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون نے کہا کہ ’یہ حملے فوری طور پر رک جانے چاہییں۔‘
انہوں نے کہا: ’یمن میں تیزی سے بگڑتی ہوئی صورت حال انتہائی تشویش ناک ہے۔ پاکستان سعودی عرب، بشمول اس کے شہری اور معاشی بنیادی ڈھانچے پر مسلسل حوثی حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔
’یہ حملے فوری طور پر رک جانے چاہییں۔ ہم برادر مملکت کی سکیورٹی، خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں اور کسی بھی بیرونی حملے کے خلاف بین الاقوامی قانون کے تحت اس کے اپنے دفاع کے حق کی توثیق کرتے ہیں۔‘
پاکستانی سفارتی نمائندے نے یمن میں پرامن تصفیے کی کوششوں کے لیے اسلام آباد کی حمایت کا اعادہ کیا۔
انہوں نے یمن میں جامع اور دیرپا امن کے حصول کی غرض سے مذاکرات کی بحالی کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی کوششوں کی بھی حمایت کی۔
سلامتی کونسل کی جانب سے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین نے ایک بیان میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر کیے جانے والے حملوں کی مذمت کی ہے، جن میں ان کے بقول شہری ہوائی اڈوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔
اراکین نے بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب میں تجارتی جہازوں کے خلاف حوثیوں کے مسلسل حملوں اور دھمکیوں کی بھی مذمت کی۔
سلامتی کونسل کے بیان میں تجارتی جہازوں اور ان کے عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
بیان میں بین الاقوامی قوانین، بالخصوص اقوامِ متحدہ کے سمندری قوانین کے کنونشن کی پابندی اور جہاز رانی کے حقوق اور آزادیوں کے تحفظ کی ضرورت پر بھی تاکید کی گئی۔
سلامتی کونسل کے اراکین نے اپنے بیان میں کہا کہ یمن میں پائیدار امن تشدد، جبر یا طاقت کے استعمال کے ذریعے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے یمن کے مسئلے کے سیاسی حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس تنازع کا مستقل حل مذاکرات اور سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

