تل ابیب/غزہ:
اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے حماس کے سابق چیف یحییٰ سنوار کے 10 سالہ بیٹے ابراہیم کا ایک خط جاری کیا ہے۔ فوج کے مطابق یہ خط جنگ شروع ہونے کے وقت لکھا گیا تھا۔ اس میں بچہ اپنے والد کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ یہودیوں کو گولی مارنے کی خواہش بھی ظاہر کرتا ہے۔ اسرائیلی فوجیوں کو یہ خط 2024 میں غزہ پٹی میں ملا تھا۔ اسے سنوار کی موت کے 2 سال مکمل ہونے کے موقع پر جاری کیا گیا ہے۔خط میں ابراہیم اپنے والد سے کہتا ہے کہ اسے ان کی یاد آتی ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کے والد واپس آ کر اسے گلے لگائیں۔ وہ اپنے والد کو فتح حاصل کرتے ہوئے دیکھنا اور ’اللہ اکبر‘ کہنا چاہتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ کلاشنکوف رائفل (ایک طرح کی اسالٹ رائفل ہے) سے یہودیوں کو گولی مارنے کی بات بھی لکھتا ہے۔ اسرائیلی فوج کے جاری کردہ ترجمے کے مطابق ابراہیم لکھتا ہے کہ ’’میں مسلسل کاغذ اور گتے سے پستول، ٹینک اور کلاشنکوف بنا رہا ہوں۔‘‘یہ خط انتہائی جذباتی نوعیت کا ہے، جس میں بچہ اپنے والد سے پوچھتا ہے کہ وہ کب واپس آئیں گے اور اسے اپنی بانہوں میں لے کر سلائیں گے۔ آخر میں وہ دعا کرتا ہے کہ جنگ ختم ہو جائے اور اس کے والد محفوظ رہیں۔ وہ لکھتا ہے کہ ’’میرے رب! میری خواہش ہے کہ جنگ ختم ہو جائے اور میں آپ کو (والد کو) محفوظ دیکھوں۔ اے والد، اللہ آپ کی حفاظت کرے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے لیے دعا کریں۔‘‘اسرائیلی فوج نے خط کے ساتھ کچھ تصویریں بھی جاری کی ہیں۔ ان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ ابراہیم کی بنائی ہوئی ہیں۔ ان میں ہتھیار، غزہ اور اسرائیل کے درمیان سرحد پر لگی باڑ کے قریب ٹینک اور اسرائیل کی جانب جاتے میزائل دکھائے گئے ہیں۔ آئی ڈی ایف کے مطابق یہ دستاویزات 2024 میں غزہ میں کارروائی کرنے والے فوجیوں کو ملی تھیں۔ فوج نے انہیں اپنے سرکاری ذرائع سے جاری کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ مواد بچوں پر حماس کے نظریے کے اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔

