یروشلم،ریاض،دبئی: دبئی سے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں کاک پٹ کے اندر پیش آنے والے ہولناک واقعے کے دوران مبینہ طور پر طیارہ گرانے کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے۔ اس خطرناک بحران کے دوران انڈین نژاد کیپٹن سمت مچھر نے شدید زخمی ہونے کے باوجود غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسافروں کی زندگیاں بچا لیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس واقعے کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ بدھ کے روز دبئی سے تقریباً 150 سے زائد مسافروں (جن میں اکثریت اسرائیلی شہریوں کی تھی) کو لے کر جانے والی فلائی دبئی کی پرواز (FZ1073) کے دوران کاک پٹ میں موجود پائلٹس کے درمیان شدید جھگڑا ہوا۔ مبینہ طور پر معاون پائلٹ نے کپتان سمت مچھر پر چاقو سے حملہ کر دیا اور بظاہر طیارے کو مسافروں سمیت نیچے گرا کر تباہ کرنے کی کوشش کی، جس کے باعث طیارہ چند لمحوں میں ہزاروں فٹ نیچے بھی آ گیا تھا۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے زخمی کیپٹن سمت مچھر کو "سچا ہیرو” قرار دیتے ہوئے بتایا کہ چاقو کے گہرے وار اور شدید چوٹوں کے باوجود کیپٹن مچھر نے حملہ آور کا مقابلہ کیا اور آخری لمحات میں ہمت کرتے ہوئے کاک پٹ کا دروازہ کھول دیا۔ دروازہ کھلنے پر طیارے میں موجود مسافروں اور دیگر عملے نے فوری طور پر اندر چھلانگ لگائی اور حملہ آور کو دبوچ کر قابو کر لیا۔
طیارے میں سوار ایک مسافر (یانیو) نے بتایا کہ جب وہ کاک پٹ کے اندر داخل ہوئے تو دونوں پائلٹس اپنی نشستوں پر نہیں تھے بلکہ حملہ آور کنٹرولز پر جھکا ہوا تھا۔ مسافروں اور عملے نے مشترکہ کوششوں سے طیارے کے نظام کو سنبھالا، جبکہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر طیارے کا رخ موڑ کر اسے سعودی عرب کے شہر تبوک کے ہوائی اڈے پر بحفاظت اتار لیا گیا۔
سعودی عرب کے شہر ریاض میں انڈین سفارتخانے کی جانب سے جاری کردہ بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ زخمی انڈین پائلٹ سمت مچھر کو تبوک کے اسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے اور ان کی حالت فی الحال مستحکم ہے۔ ریاض میں انڈین سفارتخانہ پائلٹ کے اہل خانہ اور سعودی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔






