ویانا/بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک): آسٹریا اور چین کے ماہرینِ سائنس نے وقت کی پیمائش کی تاریخ میں ایک عظیم پیش رفت کرتے ہوئے دنیا کی پہلی فعال ‘نیوکلیئر کلاک’ (Nuclear Clock) تیار کر لی ہے۔
ویانا یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی (TU Wien) اور چین کی تسنگہوا یونیورسٹی (Tsinghua University) کے سائنسدانوں نے آزادانہ طور پر تھوریم-229 () آئسوٹوپ کا استعمال کرتے ہوئے یہ تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔سائنسی ماہرین کے مطابق روایتی ایٹمی گھڑیاں (Atomic Clocks) ایٹم کے بیرونی خول میں موجود الیکٹرانز کی توانائی میں تبدیلی کی بنیاد پر وقت ناپتی ہیں، جو برقی مقناطیسی میدان، حرارت اور ماحولیاتی اثرات سے متاثر ہو سکتی ہیں۔اس کے برعکس جدید نیوکلیئر کلاک ایٹم کے بالکل مرکز یعنی ‘نیوکلیئس’ میں موجود پروٹونز اور نیوٹرونز کے توانائی کے مراحل (Nuclear Transitions) کو بنیاد بناتی ہے۔ الیکٹران شیل کی قدرتی ڈھال کی وجہ سے نیوکلیئس بیرونی مداخلت سے محفوظ رہتا ہے، جس کی بدولت نیوکلیئر کلاک غیر معمولی اور بے مثال درستگی کے ساتھ وقت کا تعین کرتی ہے۔ اس نئی تکنیک میں تھوریم-229 کے نیوکلیائی کو کیلشیم فلورائیڈ () کرسٹل میں قید کر کے الٹراوائلٹ لیزر کے ذریعے کنٹرول کیا گیا ہے، جس سے اس ڈیوائس کو زیادہ پائیدار اور چھوٹا بنانا ممکن ہو گیا ہے۔اس پیش رفت سے نہ صرف جی پی ایس (GPS) نیویگیشن، ٹیلی کمیونیکیشن اور بین الاقوامی وقت کی ہم آہنگی پہلے سے کہیں زیادہ تیز اور معتبر ہو جائے گی، بلکہ کائنات کے بنیادی ثوابت اور ‘ڈارک میٹر’ (Dark Matter) کی تلاش جیسے پیچیدہ سائنسی رازوں کو سمجھنے میں بھی مدد ملے گی۔

