لاہور: پنجاب کی سینیئر صوبائی وزیر برائے ماحولیات، انوائرمنٹ پروٹیکشن اینڈ کلائمیٹ چینج ڈیپارٹمنٹ اور گرین بلڈنگ مریم اورنگزیب نے ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی مؤثر حکمت عملی اور اقدامات کی بدولت لاہور میں سموگ اور فضائی آلودگی پر کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔ اس وقت آلودگی کو کنٹرول کرنے کے لیے مصنوعی بارش کی کوئی ضرورت نہیں پڑے گی، البتہ اگر ضرورت پیش آئی تو یہ اقدام بھی اٹھایا جائے گا۔
پریس کانفرنس کے دوران مریم اورنگزیب نے حکومت کے ماحولیاتی اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ماضی میں سموگ سیزن کے دوران صرف روایتی اقدامات جیسے مقدمات درج کرنے یا سکول بند کرنے تک اکتفا کیا جاتا تھا، تاہم وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی خصوصی ہدایت پر پہلی بار لاہور میں سموگ کے اصل اسباب پر جامع انداز میں کام شروع کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر کے بہترین ماحولیاتی طریقوں کو اپناتے ہوئے "پنجاب کلائمیٹ واچ” کے نام سے پہلا ماحولیاتی سیف سٹی قائم کیا گیا ہے، جبکہ فضائی آلودگی مانیٹر کرنے کے لیے پہلی بار جدید آلات بھی نصب کیے گئے ہیں
آٹھ ہزار سے زائد بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کر کے کیو آر کوڈ سے منسلک کر دیا گیا ہے، جبکہ 709 بھٹوں کو مزید میکنائزڈ بھی کیا گیا ہے۔
کسانوں کو فصلوں کی باقیات جلانے سے روکنے کے لیے 10 ہزار سپر سیڈرز فراہم کیے گئے ہیں اور دو سال کی مسلسل آگاہی مہم کے بعد گھاس پھوس اور باقیات سے بیلز تیار کرنے کا عمل شروع کیا گیا جس سے کسانوں کو بھی خاطر خواہ فائدہ پہنچا۔
انوائرمنٹل فورس کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کر دیا گیا ہے جنہوں نے گزشتہ سال پانچ لاکھ گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کیے۔ شہریوں کی سہولت کے لیے گاڑیوں کی فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی تاریخ میں توسیع کر دی گئی ہے اور اب شہری 15 اکتوبر سے 15 نومبر تک اپنی گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ لازمی مکمل کریں۔
آٹھ ہزار سے زائد فیکٹری یونٹس پر کیمرے نصب کر دیے گئے ہیں، جبکہ بادامی باغ، تاج پورہ، علی ٹاؤن اور ٹاؤن شپ جیسے زیادہ آلودگی والے علاقوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔مریم اورنگزیب نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ماضی میں آلودگی کا اندازہ لگانے کے لیے ہمارے پاس کوئی ڈیٹا ہی موجود نہیں تھا، اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) بڑھ کر 2400 تک پہنچ گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ لندن اور بیجنگ جیسے شہروں کو آلودگی پر قابو پانے میں 20 سال کا عرصہ لگا، لیکن ہم اس پر انتہائی کم وقت میں قابو پا رہے ہیں۔ انہوں نے کامیاب نتائج کا سہرا لاہور کے شہریوں، کسانوں اور صنعت کاروں کے باہمی تعاون کے سر باندھتے ہوئے تمام لاہوریوں کو مبارکباد پیش کی۔

