ورلڈ مینٹل ہیلتھ ڈے (عالمی یومِ دماغی صحت) کے موقع پر جاری ہونے والی عالمی رپورٹس کے مطابق، دنیا بھر میں ہر 7 میں سے ایک شخص کسی نہ کسی دماغی صحت کے مسئلے سے دوچار ہے۔ جدید دور کی تیز رفتار زندگی، معاشی دباؤ اور سماجی چیلنجز نے انسانی ذہنی توازن کو شدید متاثر کیا ہے۔روزمرہ کے اخراجات پورے کرنے کی فکر اور مالی عدم استحکام ذہنی دباؤ کی ایک بڑی وجہ ہے۔ مسلسل اسکرین کے سامنے رہنے اور منفی خبروں کی یلغار سے ڈپریشن اور بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔پروفیشنل لائف میں بڑھتے ہوئے اہداف اور کام کے اوقات کار کا طویل ہونا۔ ڈیجیٹل دنیا میں جڑے رہنے کے باوجود حقیقی سماجی میل جول اور خاندانی وقت میں کمی۔مستقل اداسی، مایوسی یا بے کلی کا غلبہ رہنا۔معمول کے روزمرہ کاموں میں دلچسپی یا توانائی کا فقدان۔نیند کے نظام میں خلل، جیسے کہ بے خوابی یا ضرورت سے زیادہ سونا۔بلاوجہ گھبراہٹ، چڑچڑاپن اور غصے کی زیادتی۔ روزانہ کی بنیاد پر ہلکی ورزش، پیدل چلنا اور صحت مند غذا کا استعمال ذہنی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔سوشل میڈیا اور موبائل فون کے استعمال کے لیے مخصوص اوقات مقرر کریں تاکہ ذہنی تھکن سے بچا جا سکے۔ خاندان اور قریبی دوستوں کے ساتھ بات چیت کرنے سے ذہنی بوجھ کافی حد تک کم ہوتا ہے۔ اگر ذہنی دباؤ طویل عرصے تک برقرار رہے تو کسی مستند سائیکاٹرسٹ یا کاؤنسلر سے فوری رجوع کریں۔دماغی صحت اتنی ہی اہم ہے جتنی کہ جسمانی صحت۔ اس دن کو منانے کا اصل مقصد اس حساس موضوع پر معاشرتی بیداری پیدا کرنا اور اس حوالے سے پائی جانے والی جھجھک کو ختم کرنا ہے۔

