انٹرنیشنل ڈیسک
ایران نے اپنے میزائل اور ڈرون بنانے والے کارخانوں کو نہ صرف مکمل طور پر محفوظ رکھا ہے بلکہ وہ اپنے ہتھیاروں کے ذخیرے میں تیزی سے اضافہ کرنے کی بھی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے بلومبرگ کی ایک نئی رپورٹ نے خطے میں جاری کشیدگی کے حوالے سے اہم انکشافات کیے ہیں۔مغربی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے پاس اس وقت بھی بیلسٹک میزائلوں اور بحری اہداف کو نشانہ بنانے والے جدید ہتھیاروں کی خاطر خواہ تعداد موجود ہے۔ نام ظاہر نہ کرنے والے ایک مغربی عہدیدار کے مطابق، روس بھی مبینہ طور پر ایران کو میزائل فراہم کر رہا ہے، تاہم روسی وزارت دفاع نے اس حوالے سے بلومبرگ کی درخواست پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران ایران نے اپنی دفاعی صنعتی ڈھانچے کی بحالی اور ہتھیاروں کے ذخائر میں اضافے پر خصوصی توجہ دی ہے۔ ان کے بقول، اگر امریکا دوبارہ حملے کرتا ہے تو ایران انتہائی مؤثر اور سخت جوابی کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یہ تازہ دعوے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے ان بیانات سے بالکل مختلف ہیں جن میں کہا گیا تھا کہ امریکی کارروائیوں نے ایران کی فوجی صنعتی صلاحیت اور دفاعی ڈھانچے کو شدید ترین نقصان پہنچایا ہے۔وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے مغربی حکام کے اس جائزے کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکی کارروائیوں نے ایران کی میزائل تنصیبات، بحری قوت اور روایتی دفاعی صلاحیت کو تباہ کر دیا ہے۔دوسری جانب، اسرائیلی اخبار ‘معاریو’ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا حالیہ ہفتوں میں اسرائیل پر زور دے رہا تھا کہ وہ ایران کے خلاف خود کارروائی کرے اور امریکی فوج براہ راست اس میں شامل نہ ہو۔ رپورٹ میں اس دعوے کے لیے کوئی ذرائع پیش نہیں کیے گئے۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال ضمیر نے خبردار کیا ہے کہ ایسی کسی بھی کارروائی سے اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات ملتوی ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان خدشات کے بعد واشنگٹن نے فی الحال اس تجویز سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔

