تحریر: مہتاب نصیر اعوان
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
8 اکتوبر 2005 کی صبح پاکستان کے لیے صرف ایک صبح نہیں تھی بلکہ ایک قیامت خیز منظر تھا۔ چند لمحوں میں زمین نے کروٹ بدلی، عمارتیں ملبے میں بدل گئیں، بستیاں اجڑ گئیں اور ہزاروں خاندانوں کی زندگیاں موت میں بدل گئیں۔ آج اس سانحے کو 21 سال مکمل ہو گئے ہیں لیکن ہر سال کی طرح 21 سال بعد بھی 8 اکتوبر ہمارے لیے صرف ایک تاریخ بن کر نہیں آتی بلکہ اپنے ساتھ ایک سوال لاتی ہے۔
کیا ہم نے اُس قیامت سے کچھ سیکھا؟
آج 8 اکتوبر 2026 ہے۔ وقت گزر گیا، نسلیں بدل گئیں، مگر قدرتی آفات اور انسانی حادثات کا سلسلہ ختم نہیں ہوا۔ 2005 کا زلزلہ، اس کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب، 2020 کی کرونا وبا اور اب 2026 کے مختلف سانحات، ہر واقعہ ہمیں ایک ہی حقیقت یاد دلاتا ہے کہ انسان کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، چند لمحوں میں کیا سے کیا ہو سکتا ہے؟؟
لیکن مجھے سب سے زیادہ فکر آفت سے نہیں، آفت کے بعد ہماری بھول جانے کی عادت سے ہوتی ہے۔
ہم ہر سانحے کے بعد جاگتے ہیں۔ دعائیں کرتے ہیں، امدادی مہمیں چلاتے ہیں، متاثرین کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، بڑے بڑے اعلانات ہوتے ہیں، مگر وقت گزرتے ہی سب کچھ پہلے جیسا ہو جاتا ہے۔ پھر اگلی آزمائش کا انتظار شروع ہو جاتا ہے۔
2026 میں بھی سیلاب نے کئی علاقوں کو متاثر کیا، حادثات نے قیمتی جانیں لیں اور اسلام آباد کے ایک ہسپتال میں آگ کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی اموات نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا۔
میں نے جب یہ خبریں پڑھیں تو میرے ذہن میں پھر وہی سوال آیا:
کیا ہر سانحے کو قسمت یا قدرتی آفت کہہ کر ہم اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو سکتے ہیں؟
ہاں ایک بات ماننے والی ہے کہ زلزلہ قدرتی آفت ہے، لیکن غیر محفوظ عمارتیں انسان بناتا ہے۔
بارش قدرتی ہے، لیکن نالوں پر تجاوزات انسان کرتا ہے۔
سیلاب قدرتی ہو سکتا ہے، لیکن ہماری ناقص منصوبہ بندی اس کی تباہی بڑھا دیتی ہے۔
آج حادثات کے بعد صرف افسوس کرنا آسان رہ گیا ہے، اصل امتحان تو یہ ہوتا ہے کہ ہم اگلے حادثے کو روکنے کے لیے پہلے سے کیا کر رہے ہیں؟ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ یہ آفت کیوں آئی؟ کیا ہم نے غور کیا کہ یہ ہمارے گناہوں کا نتیجہ ہے؟
یہ سوال ہر بڑی آفت کے بعد اٹھتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ کسی مخصوص حادثے کو قطعی طور پر اللہ کی سزا قرار دینا درست نہیں، اس کی حقیقت اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
لیکن قرآن ہمیں اپنے اعمال کا جائزہ لینے سے روکتا نہیں بلکہ متوجہ کرتا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
"خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہوگیا لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی کے سبب، تاکہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے، شاید وہ باز آجائیں۔”(سورۃ الروم: 41)
یہ آیت پڑھتے ہوئے میں دوسروں کو دیکھنے سے پہلے خود کو دیکھتا ہوں۔ کیا میں کسی کا حق تو نہیں مار رہا؟ کیا میں ظلم پر خاموش تو نہیں؟ کیا میں اپنے فرائض ادا کر رہا ہوں؟ کیا میں اللہ کی طرف صرف مصیبت میں لوٹتا ہوں یا خوشحالی میں بھی؟
میرے نزدیک آج 8 اکتوبر کا اصل پیغام یہی ہے کہ ہمیں صرف ماضی کے شہداء کو یاد نہیں کرنا، اپنے حال کو بھی درست کرنا ہو گا۔ ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف بھی لوٹنا ہے اور اپنی ذمہ داریوں کی طرف بھی۔
کیونکہ عمارتیں دوبارہ بن سکتی ہیں، سڑکیں دوبارہ تعمیر ہو سکتی ہیں، شہر دوبارہ آباد ہو سکتے ہیں، مگر جو انسان دنیا سے چلا جائے، وہ واپس نہیں آتا۔
21 سال پہلے زمین ہلی تھی، آج زمین خاموش ہے، مگر سوال اب بھی وہی ہے:
آخر ہم کب سنبھلیں گے؟


