تحریر :انورزیب خان
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
خیبر پختونخوا اس وقت ایک ایسے تاریک اور ہولناک موڑ پر لا کھڑا ہوا ہے جہاں ایک طرف بدامنی اور دہشت گردی کا بڑھتا ہوا سایہ ہے، تو دوسری طرف اسلام آباد کے اقتدار کے ایوانوں میں جنم لینے والا آئینی طوفان۔ 10 اکتوبر 2026 کو وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والا ہنگامی سکیورٹی اجلاس محض ایک سرکاری بیٹھک نہیں، بلکہ اس صوبے کے سیاسی اور انتظامی مستقبل پر لٹکتی ہوئی وہ تلوار ہے جس کی دھار لمحہ بہ لمحہ تیز ہو رہی ہے۔
وفاقی کابینہ کو ہائی الرٹ پر رکھ کر اسلام آباد ہی میں رکنے کی سخت ہدایات جاری ہونا اس بات کا واضح عکاس ہے کہ ریاست اب کسی مصلحت یا لچک کے موڈ میں نہیں ہے، بلکہ ایک انتہائی جیو پولیٹیکل اور آئینی سرجری کے آخری دہانے پر پہنچ چکی ہے۔
اس صوبے کی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لیے وفاق کے پاس موجود آئینی ہتھیار اب میز پر سجا دیے گئے ہیں۔ سابق فاٹا سمیت خیبر پختونخوا کے 12 حساس اضلاع میں پبلک سیفٹی کے نام پر سکیورٹی اداروں اور ڈپٹی کمشنرز کو غیر معمولی انتظامی اختیارات سونپنے کی تجویز حتمی مراحل میں ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ یہ جراحی صرف 12 اضلاع تک محدود نہیں رہے گی۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 232 گواہی دیتا ہے کہ سکیورٹی ایمرجنسی کا نفاذ پورے صوبے کو اپنی لپیٹ میں لے گا، جس کے نتیجے میں وفاق صوبے کے سیاہ و سفید کا مالک بن سکتا ہے۔ اور اگر سیاسی محاذ آرائی کا یہ پارہ یوں ہی چڑھتا رہا، تو آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کا وہ کوڑا برسنے کو تیار ہے جو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی حکومت اور صوبائی اسمبلی کے وجود کو ہی معطل کر کے رکھ دے گا۔ اگرچہ صدرِ پاکستان کا حتمی دستخط شدہ نوٹیفکیشن ابھی جاری ہونا باقی ہے، مگر اسلام آباد کی خاموش اور سنجیدہ راہداریوں سے آنے والی خبریں بتا رہی ہیں کہ وفاق اپنا تمام قانونی ہوم ورک مکمل کر کے فائرنگ پوزیشن پر آ چکا ہے۔
یہ سکیورٹی اور آئینی ایمرجنسی کوئی عام سیاسی کھیل نہیں، بلکہ یہ ایک پورا نظامِ زندگی مفلوج کرنے کا نسخہ ہے۔ اس کے نفاذ کے ساتھ ہی آرٹیکل 233 کے تحت شہریوں کی نقل و حرکت، اجتماع، اور اظہارِ رائے جیسے بنیادی انسانی حقوق منجمد ہو کر رہ جائیں گے۔ وفاق کا مقدمہ یہ ہے کہ جب صوبہ بارود کے ڈھیر پر بیٹھا ہو اور معصوم شہریوں اور فورسز کا خون بہہ رہا ہو، تب صوبائی حکومت کی تمام تر توجہ، وسائل اور طاقت وفاق پر چڑھائی کرنے اور احتجاجی سیاست کے ایندھن میں جھونک دی گئی ہے۔ سکیورٹی کے اس بھیانک خلا کو اب وفاق اپنے سخت ترین آئینی اختیارات سے پر کرنے جا رہا ہے۔
یہاں صوبائی حکومت بالخصوص وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو یہ کڑوی حقیقت یاد رکھنی چاہیے کہ یہ سیاسی ہٹ دھرمی اور قانون شکنی صرف اسی وقت تک ممکن ہے جب تک وزیرِ اعلیٰ کا منصب اور پروٹوکول آپ کے پاس ہے۔ اقتدار کے اس ہالے سے باہر نکلتے ہی آپ کی تمام تر طاقت ریت کی دیوار ثابت ہوگی۔ ایمرجنسی یا گورنر راج کی صورت میں جب وفاق کا قانون حرکت میں آئے گا، تو آپ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے دو قدم بھی نہیں چل سکیں گے اور تمام سیاسی پوزیشن دھری کی دھری رہ جائے گی۔
حقیقت یہ ہے کہ تحریکِ انصاف اور خیبر پختونخوا حکومت کے پاس اب سوچنے اور سنبھلنے کی مہلت ختم ہو چکی ہے۔ وقت ان کے ہاتھوں سے ریت کے ذروں کی طرح اتنی تیزی سے پھسل رہا ہے کہ شاید اگلی چند گھنٹیاں آخری ثابت ہوں۔ ضد، انا، اور اندھے تصادم کی یہ تاریک راہ صوبے کو اس بند گلی میں دھکیل رہی ہے جہاں روشنی کی کوئی ایک کرن بھی باقی نہیں بچے گی۔ اب بھی وقت ہے کہ تحریکِ انصاف اور صوبائی قیادت اس رنجیدہ زمینی حقیقت کو تسلیم کرے، اقتدار کی جنگ سے پیچھے ہٹے اور وفاق کے ساتھ میز پر بیٹھ کر سنجیدگی سے سودے بازی کرے۔ ورنہ اگر ایک بار یہ آئینی لکیر عبور ہو گئی اور صدارتی اعلامیہ جاری ہو گیا، تو پھر پچھتاوے، ملامت اور ماتم کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا، اور اس کی سب سے دردناک قیمت خیبر پختونخوا کے ان مظلوم عوام کو چکانی پڑے گی جو پہلے ہی دہائیوں سے امن کو ترس رہے ہیں۔


