تحریر :اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
صوبہ پنجاب میں ایک طرف محکمہ جیل خانہ جات کے سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے آئی جی جیل خانہ جات میاں سالک جلال کو مبینہ رشوت دینے اور گرفتار ہونے کا غیر معمولی واقعہ سامنے آیا ہے تو دوسری طرف ملتان پولیس میں سی پی او کی تبدیلی کا معاملہ بھی غیر معمولی صورتحال اختیار کر گیا ہے۔ 5 اکتوبر کی رات سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل اٹک عمران برتھ کی آئی جی جیل خانہ جات کی رہائش گاہ پر ملاقات ہوئی، حکام کے مطابق وہ بعد میں دوبارہ واپس آئے اور مبینہ طور پر نوٹوں سے بھرا لفافہ آئی جی کی میز پر رکھ دیا، جسے قبول کرنے کے بجائے میاں سالک جلال نے متعلقہ حکام کو اطلاع دی اور اینٹی کرپشن نے کارروائی کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ کو گرفتار کر لیا۔ یہ واقعہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ ایک اعلیٰ افسر نے مبینہ رشوت مسترد کرکے معاملہ قانون کے حوالے کیا، اب ضروری ہے کہ تحقیقات صرف لفافے تک محدود نہ رہیں بلکہ رقم کے ماخذ، گرفتار افسر کے اثاثوں، بینک اکاؤنٹس، مالی لین دین، جیل فنڈز اور ممکنہ غیر قانونی وصولیوں تک پہنچائی جائیں۔ اینٹی کرپشن سمیت متعلقہ اداروں پر مشتمل جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم ماضی کے جیل افسران کے مالی معاملات اور ان روابط کی بھی قانونی دائرے میں تحقیقات کرے جن کے ذریعے کسی غیر قانونی مالی نیٹ ورک کا سراغ مل سکتا ہو۔ دوسری جانب ملتان میں حکومت پنجاب نے سی پی او صادق علی ڈوگر کے تبادلے کے احکامات جاری کرتے ہوئے سابق ڈی پی او گجرات اختر فاروق کو نیا سی پی او مقرر کیا، مگر ذرائع کے مطابق صادق علی ڈوگر نے تاحال چارج نہیں چھوڑا اور اختر فاروق کو انتظار کرنے کا کہا گیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے دورہ ملتان کے دوران صادق علی ڈوگر کی ون آن ون ملاقات کی اطلاعات کے بعد تبادلے کے احکامات پر نظرثانی یا منسوخی کی چہ میگوئیاں بھی سامنے آ رہی ہیں، تاہم حتمی فیصلہ حکومت پنجاب کے باضابطہ حکم سے ہی واضح ہوگا۔ دونوں واقعات اپنے اپنے انداز میں ایک ہی بنیادی اصول کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ سرکاری اداروں میں فیصلے واضح، شفاف اور قواعد کے مطابق ہونے چاہئیں۔ ایک طرف رشوت کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ضروری ہے تو دوسری طرف تقرریوں اور تبادلوں کے احکامات پر عمل درآمد بھی انتظامی نظم و ضبط کا بنیادی تقاضا ہے۔ اب اصل امتحان متعلقہ اداروں کا ہے کہ دونوں معاملات میں حقائق کو سامنے لایا جائے اور کسی بھی فیصلے یا کارروائی کو شخصیات کے بجائے قانون، شواہد اور میرٹ سے جوڑا جائے۔
آئی جی جیل خانہ جات کو دی گئی رشوت کی رقم کہاں سے آئی؟ بڑے راز کھل گئے افسران پریشان،ایک اہم ملاقات میں عملدرامد کرانے والا سیل خاموش،ملتان سی پی او کا تبادلہ خطرے میں، اختر فاروق انتظار میں


