ماموں کانجن (ملک طارق بشیرسے)
حکومت پنجاب کی آؤٹ سورس پالیسی کے تحت” مریم نواز ہیلتھ کلینک ماموں کانجن "حاصل کرنے والے ہیلتھ منیجرز اینڈ سینیئر کنسلٹنٹس ڈاکٹر عنود حنا اور ڈاکٹر سیف الرحمن نے یہ موقف اختیار کرتے ہوئے آئندہ کلینک کنٹینیو رکھنے سے معذرت کر لی ہے کہ انکےکلیمز کی ادائیگی میں غیر منصفانہ کٹوتیاں کی جاتی ہیں،لاہور پراجیکٹ اتھارٹیز کی جانب سے حد سے زیادہ فیتہ شاہی جسکے نتیجہ میں منظوریوں ،فیصلوں، کی ادائیگیوں اور انتظامی امور میں غیرضروری تاخیر ،ضروری آلات،سولر سسٹم ،الٹراساؤنڈ مشین،ڈیجیٹل ایکسرےاور ضروری آپریسنل اور تشخیصی آلات کی عدم فراہمی،ہسپتال کی عمارت میں فائر سیفٹی کی عدم دستیابی ،بجلی اور عمارت کے ناقص میعار کے بنیادی ڈھانچے جن میں پنکھےاورسوئچ شامل ہیں،
عمارت کااندرونی اور بیرونی مرمتی کام غیر میعاری ہونا،کم میعار کا پینٹ ورک،مالی کٹوتیاں، رہنمائی ،تعاون اور آپریشنل مسائل کے بروقت حل کے لئے معاونت فراہم کرنے کی بجائے مسلسل دباؤ اور دھمکیاں دینا،چھٹی لینے میں مشکلات مشکلات پیدا کرنا،ہسپتال دریائے راوی بیلٹ کے قریب ایک دوردراز اوردشوار گزار علاقہ میں واقع ہے
جس وجہ سے ماہر ڈاکٹرز کی کمی اورہسپتال کے محل وقوع کے باعث ایسی شرائط پرعملدرآمد سمیت دیگر متعدد وجوہات شامل ہیں




