تحریر: حاجی فضل محمود انجم
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

نیوز ڈیسک: تاریخ میں آتا ہے کہ چنگیز خان شہر نیشاپور کو خون میں نہلانے کے بعد اپنی سپاہ کے ہمراہ ہمدان کی طرف روانہ ہوا۔ ہمدان کے لوگ ڈر اور خوف سے لرز رہے تھے، ہر چہرے پر خوف اور ہر دل میں موت کا اندیشہ چھایا ہوا تھا۔
چنگیز خان وہاں پہنچا تو اس نے حکم دیا کہ پورے شہر کے لوگوں کو ایک وسیع میدان میں جمع کیا جائے۔ لوگ جمع ہوئے تو چنگیز خان نے بلند آواز میں کہا:
"میں نے سنا ہے کہ ہمدان شہر کے لوگ بڑے ہوشیار، چالاک، عقل مند اور سمجھدار ہوتے ہیں۔ تمہاری عقل مندی اور فہم و فراست کا امتحان لینے کے لیے میں تم سے ایک سوال کروں گا۔ اگر جواب درست ہوا تو تم سب کو امان دے دی جائے گی اور اگر جواب غلط ہوا… تو پھر یہ میدان تم سب کے لیے قبرستان بن جائے گا۔ تمہاری قسمت کا فیصلہ اب تمہارا دیا گیا درست جواب کرے گا۔”
میدان میں موت جیسی خاموشی چھائی ہوئی تھی اور لوگ ڈر کے مارے کانپ رہے تھے۔ چنگیز خان نے ادھر ادھر دیکھا اور سوال کیا:
"بتاؤ، کیا میں یہاں خدا کی طرف سے آیا ہوں یا اپنی مرضی سے آیا ہوں؟”
حاضرین میں کسی میں ہمت نہ تھی کہ کوئی اس سوال کا جواب دیتا کیونکہ سب ڈرے اور سہمے ہوئے تھے اور انہیں کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا، کیونکہ اسی سوال کے جواب پر تو ان کی زندگیوں کا دارومدار تھا۔ ایسے میں ایک چرواہا آگے بڑھا جو نہ تو کوئی عالم فاضل تھا اور نہ ہی دانشور، لیکن اس کی آنکھوں میں بصیرت کی چمک اور دل میں سچائی کی جھلک ضرور تھی۔
چنگیز خان نے اسے دیکھا اور کہا: "اب اگر میں اپنے سوال کا جواب سنوں گا تو تجھ سے ہی سنوں گا!”
چرواہے نے بے خوف ہو کر اور بڑے سکون سے چنگیز خان کو دیکھا اور کہا:
"چنگیز خان! تم نہ تو خدا کی طرف سے آئے ہو اور نہ ہی اپنی مرضی سے آئے ہو… تمہیں تو ہمارے اپنے اعمال نے ہی یہاں آنے کی دعوت دی ہے۔ جب ہم نے اپنی قوم میں موجود عقل والوں کو نظر انداز کر دیا، علم والوں اور علماء کو پیچھے دھکیل دیا اور جاہلوں، ان پڑھوں اور خوشامدیوں کو عزت، طاقت اور قیادت سے نوازا تو پھر نتیجے کے طور پر تم جیسے ظالم و جابر حکمران کا یہاں آنا لازمی تھا۔”
چرواہے کے اس جواب سے میدان میں گہری خاموشی چھا گئی۔ چنگیز خان بھی ساکت رہ گیا کیونکہ حقیقت پر مبنی یہ بات اس کے دل و دماغ میں اتر گئی تھی۔ چنانچہ اس نے سب کو چھوڑ دیا اور کسی کا خون نہ بہایا۔
اس تاریخی واقعے سے اس حقیقت کا پتہ چلتا ہے کہ چنگیز خان جیسے فتنہ پرور اور ظالم لوگ آسمان سے نہیں اترتے، بلکہ قوموں کے اپنے اعمال، غلطیوں اور کوتاہیوں کا نتیجہ ہوتے ہیں اور لوگ خود انہیں دعوت دے کر لاتے ہیں۔
بصد معذرت! کیا آج ہمارے ملکی عوام کی حالت بھی کچھ ایسی ہی نہیں ہے؟ آج لوگ شکوہ و شکایت کرتے ہیں کہ ہمارے حکمران آئے دن عوام کو مسائل و آلام سے دوچار کر رہے ہیں اور انہیں عوام کا کوئی احساس نہیں ہے۔ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، کئی کئی گھنٹے بجلی کی عدم فراہمی اور شدید مہنگائی کے باعث عام آدمی کے لیے جینا محال ہو چکا ہے۔
عام تاثر یہی ہے کہ نوازشات و عنایات کا رخ اشرافیہ کی طرف اور مہنگائی و مسائل کا رخ عام عوام کی طرف کر دیا گیا ہے۔ لیکن ان سے کہنا یہی ہے کہ اگر آپ کا یہ شکوہ درست ہے تو پھر یہ بات بھی حقیقت ہے کہ انہیں لانے والے بھی تم ہی ہو… تو پھر اب شکوہ اور شکایت کیسی!؟

