آبنائے ہرمز، باب المندب اور پائپ لائنز پر بڑھتے ہوئے خطرات کے درمیان سعودی عرب کی بدلتی ہوئی بحری و معاشی پالیسیوں کا تفصیلی جائزہ
تحریر :محمد اشفاق
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
دنیا کا دوسرا بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک اپنا تیل بیچنے کے لیے ایسے فیصلے کرنے پر مجبور ہے جن میں ہر قدم پر خطرہ ہے۔ یہ کہانی سعودی عرب کی ہے، اور اس کا اثر پوری دنیا کی جیب پر پڑ رہا ہے۔
الجزیرہ کے تجزیے کے مطابق جنوری اور فروری میں سعودی عرب روزانہ ساڑھے سات ملین بیرل سے زیادہ خام تیل بھیج رہا تھا۔ اگست میں یہ گھٹ کر تقریباً 2.3 ملین بیرل اور ستمبر کے پہلے نصف میں تقریباً 2.1 ملین بیرل روزانہ رہ گیا، یعنی 70 فیصد سے زیادہ کمی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اصل مقدار کچھ زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ ٹریکنگ بند کر کے گزرنے والے ٹینکر ریکارڈ میں نہیں آتے۔
وجہ کیا ہے؟ 28 فروری کو امریکہ اسرائیل ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے آبنائے ہرمز بڑی حد تک بند ہے۔ ایسے ہی بحران سے بچنے کے لیے سعودی عرب نے 1981 میں مشرق سے مغرب تک تقریباً 1200 کلومیٹر لمبی پائپ لائن بنائی تھی، جو مشرقی تیل کھیتوں سے بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع تک تیل پہنچاتی ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ صلاحیت تقریباً 7 ملین بیرل روزانہ ہے۔ مگر گزشتہ ہفتے ڈرون حملوں نے اس کا ایک حصہ ناکارہ کر دیا اور عالمی سپلائی سے روزانہ 4 سے 5 ملین بیرل نکل گئے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق مرمت میں تین سے پانچ ہفتے لگ سکتے ہیں۔
دوسرا راستہ بھی تنگ ہے۔ یمن کے حوثیوں نے ستمبر میں تیز فوجی پیش قدمی کی، مخا بندرگاہ، ذوباب قصبے اور میون جزیرے پر قبضہ کیا اور اب باب المندب کے آبنائے پر ان کا کنٹرول ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا بھی اعلان کر رکھا ہے، یعنی سعودی بندرگاہوں پر مال لادنے یا اتارنے والے جہازوں پر پابندی۔
جنوبی راستہ بند ہو تو شمال میں نہرِ سویز بچتی ہے، مگر بہت بڑے ٹینکر پورا لوڈ لے کر وہاں سے نہیں گزر سکتے۔ انہیں مصر کے عین سخنہ پر جزوی طور پر تیل اتارنا پڑتا ہے، جو پائپ لائن کے ذریعے بحیرہ روم تک جاتا ہے۔ ایشیا تک پہنچانا ہو تو افریقہ کے گرد چکر کاٹنا پڑتا ہے: تقریباً 13,140 بحری میل کا سفر، جبکہ ہرمز والا راستہ تقریباً 3,370 بحری میل اور دس دن کا ہے۔ یعنی تقریباً ایک ماہ اضافی وقت اور کہیں زیادہ خرچہ۔
اسی لیے ریاض کے پاس واپس آبنائے ہرمز کی طرف مڑنے کے سوا زیادہ آپشنز نہیں بچے، حالانکہ وہاں حملے کا خطرہ رہتا ہے۔ ٹینکر عمان کے ساحلی پانیوں میں اپنا ٹریکنگ سسٹم بند کر کے گزرتے ہیں، اور صوہار کے قریب جہاز سے جہاز کو تیل منتقل کیا جاتا ہے۔ ایک شپنگ ماہر کے مطابق امکان ہے کہ یہ ٹینکر امریکی بحریہ سے رابطے میں رہیں گے، مگر خطرہ پھر بھی باقی رہتا ہے۔ ریستاد انرجی کے مطابق ستمبر کے پہلے دو ہفتوں میں ہرمز کے راستے سے برآمدات 20 لاکھ بیرل روزانہ سے اوپر رہیں، یعنی اگست سے تقریباً 10 لاکھ بیرل زیادہ، اور آرامکو ایشیائی ریفائنریوں کو صوہار سے مزید لوڈنگ کی پیشکش بھی کر رہا ہے۔
دلچسپ بات یہ کہ ٹرکوں سے تیل لے جانے کا حل بھی کارگر نہیں۔ صرف ایک دن کی برآمد سڑک سے بھیجنے کے لیے تقریباً 25 سے 35 ہزار ٹینکر ٹرک درکار ہوں گے، اور ان کی قطار تقریباً 500 کلومیٹر لمبی ہوگی۔ جبکہ ایک بڑا ٹینکر اکیلا تقریباً 20 لاکھ بیرل لے جاتا ہے۔
پائپ لائن کے بارے میں ریستاد انرجی کے ایک ماہر کا اندازہ ہے کہ دو ہفتوں کے اندر یہ 40 سے 60 فیصد صلاحیت پر دوبارہ چل سکتی ہے، یعنی تقریباً ڈھائی سے تین ملین بیرل روزانہ۔ مگر سعودی عرب ریفائنریوں کو ترجیح دے گا، اس لیے برآمد کے لیے صرف نصف سے ایک ملین بیرل بچے گا۔ ہرمز اور ٹریکنگ بند ٹینکروں کی بڑھت شامل کر کے بھی خالص کمی تقریباً 15 سے 20 لاکھ بیرل روزانہ رہنے کا اندازہ ہے۔
اور اس کا اثر صرف ریاض تک محدود نہیں۔ برینٹ خام تیل ماضی قریب میں 70 سے 90 ڈالر فی بیرل کے درمیان تھا، اب 105 ڈالر سے اوپر ٹریڈ ہو رہا ہے۔ سعودی تیل کے بڑے خریداروں میں چین (22 فیصد)، جنوبی کوریا (14)، جاپان (13)، بھارت (10) اور امریکہ (5) شامل ہیں۔ یورپی ریفائنریوں کے کئی آرڈر منسوخ ہو چکے ہیں اور وہ شمالی سمندر، امریکہ اور مغربی افریقہ سے تیل ڈھونڈ رہی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ عرب لائٹ اور عرب میڈیم جیسے سعودی خام تیل کا ہوبہو متبادل ملنا مشکل ہے، کیونکہ امریکہ، قازقستان اور شمالی سمندر کے بیشتر متبادل تیلوں میں سلفر کم ہوتا ہے، اور اس سے وہ ایشیائی ریفائنریاں زیادہ متاثر ہوتی ہیں جو مشرقِ وسطیٰ کے تیل کے لیے بنائی گئی ہیں۔
سب سے بڑا تضاد سعودی آمدنی میں ہے۔ تیل کی اونچی قیمتیں فائدہ تو دے رہی ہیں، مگر جب تیل بندرگاہ تک ہی نہ پہنچے تو فائدہ کہاں؟ آرامکو کی فروخت سرکاری آمدنی کا نصف سے زیادہ حصہ بنتی ہے، اور 2025 میں اس سے حکومت کو تقریباً 162 ارب ڈالر ملے تھے۔ یو بی ایس کی تحقیق کے مطابق اس سال بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 5 فیصد تک جا سکتا ہے، جبکہ ہدف 3.3 فیصد تھا۔ گیوکال ریسرچ کے لوئس ونسنٹ گیو نے یہ تک کہا کہ اگر سعودی تیل نہ بھیج سکا تو حکومت کو بل ادا کرنے کے لیے اثاثے بیچنے پڑ سکتے ہیں، جیسے امریکی خزانے کے بانڈز یا سرمایہ کاری۔
خلاصہ یہ کہ سعودی عرب کے پاس تینوں راستے تو موجود ہیں، مگر تینوں پر خطرہ منڈلا رہا ہے: ہرمز میں ایران، باب المندب میں حوثی، اور پائپ لائن خود مرمت کی محتاج ہے۔ سوال اب صرف سعودی عرب کی مشکلات کا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ دنیا کی توانائی منڈی ایک ایسے بحران کو کتنی دیر جھیل سکتی ہے جس میں دنیا کے بڑے تیل برآمد کنندگان میں سے ایک کا تیل منڈی تک پہنچ ہی نہیں پا رہا۔



