Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      امریکا اور چین میں نیویارک مذاکرات کامیاب، تجارتی جنگ میں کمی اور اے آئی سیکیورٹی میکانزم پر اتفاق

      ”میٹا“کو بڑا دھچکا: فیس بک اور انسٹاگرام اچانک بند، ہزاروں صارفین متاثر

      سائنسدانوں نے بلیک ہولز سے متعلق بڑا اور قدیم سائنسی اسرار حل کر لیا

      واٹس ایپ کا زبردست تحفہ: اینڈرائیڈ صارفین کے لیے ’وائس ٹو ٹیکسٹ‘ نیا فیچر

      آرٹی فیشل انٹیلی جنس بے قابو، گوگل جیمنائی نے بھی تین کمپنیوں کے سسٹمز ہیک کر لیے

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    تیل بحران اور سعودی عرب: جغرافیائی و مالی چیلنجز اور ریاض کی ممکنہ حکمتِ عملی

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    آبنائے ہرمز، باب المندب اور پائپ لائنز پر بڑھتے ہوئے خطرات کے درمیان سعودی عرب کی بدلتی ہوئی بحری و معاشی پالیسیوں کا تفصیلی جائزہ

    تحریر :محمد اشفاق

    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    دنیا کا دوسرا بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک اپنا تیل بیچنے کے لیے ایسے فیصلے کرنے پر مجبور ہے جن میں ہر قدم پر خطرہ ہے۔ یہ کہانی سعودی عرب کی ہے، اور اس کا اثر پوری دنیا کی جیب پر پڑ رہا ہے۔
    الجزیرہ کے تجزیے کے مطابق جنوری اور فروری میں سعودی عرب روزانہ ساڑھے سات ملین بیرل سے زیادہ خام تیل بھیج رہا تھا۔ اگست میں یہ گھٹ کر تقریباً 2.3 ملین بیرل اور ستمبر کے پہلے نصف میں تقریباً 2.1 ملین بیرل روزانہ رہ گیا، یعنی 70 فیصد سے زیادہ کمی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اصل مقدار کچھ زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ ٹریکنگ بند کر کے گزرنے والے ٹینکر ریکارڈ میں نہیں آتے۔
    وجہ کیا ہے؟ 28 فروری کو امریکہ اسرائیل ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے آبنائے ہرمز بڑی حد تک بند ہے۔ ایسے ہی بحران سے بچنے کے لیے سعودی عرب نے 1981 میں مشرق سے مغرب تک تقریباً 1200 کلومیٹر لمبی پائپ لائن بنائی تھی، جو مشرقی تیل کھیتوں سے بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع تک تیل پہنچاتی ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ صلاحیت تقریباً 7 ملین بیرل روزانہ ہے۔ مگر گزشتہ ہفتے ڈرون حملوں نے اس کا ایک حصہ ناکارہ کر دیا اور عالمی سپلائی سے روزانہ 4 سے 5 ملین بیرل نکل گئے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق مرمت میں تین سے پانچ ہفتے لگ سکتے ہیں۔
    دوسرا راستہ بھی تنگ ہے۔ یمن کے حوثیوں نے ستمبر میں تیز فوجی پیش قدمی کی، مخا بندرگاہ، ذوباب قصبے اور میون جزیرے پر قبضہ کیا اور اب باب المندب کے آبنائے پر ان کا کنٹرول ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا بھی اعلان کر رکھا ہے، یعنی سعودی بندرگاہوں پر مال لادنے یا اتارنے والے جہازوں پر پابندی۔
    جنوبی راستہ بند ہو تو شمال میں نہرِ سویز بچتی ہے، مگر بہت بڑے ٹینکر پورا لوڈ لے کر وہاں سے نہیں گزر سکتے۔ انہیں مصر کے عین سخنہ پر جزوی طور پر تیل اتارنا پڑتا ہے، جو پائپ لائن کے ذریعے بحیرہ روم تک جاتا ہے۔ ایشیا تک پہنچانا ہو تو افریقہ کے گرد چکر کاٹنا پڑتا ہے: تقریباً 13,140 بحری میل کا سفر، جبکہ ہرمز والا راستہ تقریباً 3,370 بحری میل اور دس دن کا ہے۔ یعنی تقریباً ایک ماہ اضافی وقت اور کہیں زیادہ خرچہ۔
    اسی لیے ریاض کے پاس واپس آبنائے ہرمز کی طرف مڑنے کے سوا زیادہ آپشنز نہیں بچے، حالانکہ وہاں حملے کا خطرہ رہتا ہے۔ ٹینکر عمان کے ساحلی پانیوں میں اپنا ٹریکنگ سسٹم بند کر کے گزرتے ہیں، اور صوہار کے قریب جہاز سے جہاز کو تیل منتقل کیا جاتا ہے۔ ایک شپنگ ماہر کے مطابق امکان ہے کہ یہ ٹینکر امریکی بحریہ سے رابطے میں رہیں گے، مگر خطرہ پھر بھی باقی رہتا ہے۔ ریستاد انرجی کے مطابق ستمبر کے پہلے دو ہفتوں میں ہرمز کے راستے سے برآمدات 20 لاکھ بیرل روزانہ سے اوپر رہیں، یعنی اگست سے تقریباً 10 لاکھ بیرل زیادہ، اور آرامکو ایشیائی ریفائنریوں کو صوہار سے مزید لوڈنگ کی پیشکش بھی کر رہا ہے۔
    دلچسپ بات یہ کہ ٹرکوں سے تیل لے جانے کا حل بھی کارگر نہیں۔ صرف ایک دن کی برآمد سڑک سے بھیجنے کے لیے تقریباً 25 سے 35 ہزار ٹینکر ٹرک درکار ہوں گے، اور ان کی قطار تقریباً 500 کلومیٹر لمبی ہوگی۔ جبکہ ایک بڑا ٹینکر اکیلا تقریباً 20 لاکھ بیرل لے جاتا ہے۔
    پائپ لائن کے بارے میں ریستاد انرجی کے ایک ماہر کا اندازہ ہے کہ دو ہفتوں کے اندر یہ 40 سے 60 فیصد صلاحیت پر دوبارہ چل سکتی ہے، یعنی تقریباً ڈھائی سے تین ملین بیرل روزانہ۔ مگر سعودی عرب ریفائنریوں کو ترجیح دے گا، اس لیے برآمد کے لیے صرف نصف سے ایک ملین بیرل بچے گا۔ ہرمز اور ٹریکنگ بند ٹینکروں کی بڑھت شامل کر کے بھی خالص کمی تقریباً 15 سے 20 لاکھ بیرل روزانہ رہنے کا اندازہ ہے۔
    اور اس کا اثر صرف ریاض تک محدود نہیں۔ برینٹ خام تیل ماضی قریب میں 70 سے 90 ڈالر فی بیرل کے درمیان تھا، اب 105 ڈالر سے اوپر ٹریڈ ہو رہا ہے۔ سعودی تیل کے بڑے خریداروں میں چین (22 فیصد)، جنوبی کوریا (14)، جاپان (13)، بھارت (10) اور امریکہ (5) شامل ہیں۔ یورپی ریفائنریوں کے کئی آرڈر منسوخ ہو چکے ہیں اور وہ شمالی سمندر، امریکہ اور مغربی افریقہ سے تیل ڈھونڈ رہی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ عرب لائٹ اور عرب میڈیم جیسے سعودی خام تیل کا ہوبہو متبادل ملنا مشکل ہے، کیونکہ امریکہ، قازقستان اور شمالی سمندر کے بیشتر متبادل تیلوں میں سلفر کم ہوتا ہے، اور اس سے وہ ایشیائی ریفائنریاں زیادہ متاثر ہوتی ہیں جو مشرقِ وسطیٰ کے تیل کے لیے بنائی گئی ہیں۔
    سب سے بڑا تضاد سعودی آمدنی میں ہے۔ تیل کی اونچی قیمتیں فائدہ تو دے رہی ہیں، مگر جب تیل بندرگاہ تک ہی نہ پہنچے تو فائدہ کہاں؟ آرامکو کی فروخت سرکاری آمدنی کا نصف سے زیادہ حصہ بنتی ہے، اور 2025 میں اس سے حکومت کو تقریباً 162 ارب ڈالر ملے تھے۔ یو بی ایس کی تحقیق کے مطابق اس سال بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 5 فیصد تک جا سکتا ہے، جبکہ ہدف 3.3 فیصد تھا۔ گیوکال ریسرچ کے لوئس ونسنٹ گیو نے یہ تک کہا کہ اگر سعودی تیل نہ بھیج سکا تو حکومت کو بل ادا کرنے کے لیے اثاثے بیچنے پڑ سکتے ہیں، جیسے امریکی خزانے کے بانڈز یا سرمایہ کاری۔
    خلاصہ یہ کہ سعودی عرب کے پاس تینوں راستے تو موجود ہیں، مگر تینوں پر خطرہ منڈلا رہا ہے: ہرمز میں ایران، باب المندب میں حوثی، اور پائپ لائن خود مرمت کی محتاج ہے۔ سوال اب صرف سعودی عرب کی مشکلات کا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ دنیا کی توانائی منڈی ایک ایسے بحران کو کتنی دیر جھیل سکتی ہے جس میں دنیا کے بڑے تیل برآمد کنندگان میں سے ایک کا تیل منڈی تک پہنچ ہی نہیں پا رہا۔

    Related Posts

    وزیراعلیٰ لاپتہ، احتجاج کی کال اور مہنگائی کے سائے

    اور… اب شکوہ و شکایت کیسی!؟

    ایک ننھا سا سیلوٹ اور ہزاروں سوال

    مقبول خبریں

    کینیڈا فلائٹ ٹریننگ کے دوران دو بھارتی طلبہ ہلاک

    چنئی سپر کنگز نے سابق بھارتی فاسٹ بولر ظہیر خان کو اپنا نیا ہیڈ کوچ مقرر کر دیا

    وٹامن ڈی کی کمی نہ صرف ہڈیوں کے لیے، بلکہ دل کے لیے بھی ہے خطرناک، جانیں کیا کہتے ہیں ماہرین؟

    سانگھڑ: فائرنگ کے 2 واقعات میں 2 نوجوان جاں بحق، ملزمان فرار

    بدن میں انگاروں سی جلن، تالاب میں رہنے کو تھے مجبور: اقبال شیخ کو ملی نئی زندگی، 35 دنوں کے علاج کے بعد لوٹے گھر

    بلاگ

    وزیراعلیٰ لاپتہ، احتجاج کی کال اور مہنگائی کے سائے

    تیل بحران اور سعودی عرب: جغرافیائی و مالی چیلنجز اور ریاض کی ممکنہ حکمتِ عملی

    اور… اب شکوہ و شکایت کیسی!؟

    ایک ننھا سا سیلوٹ اور ہزاروں سوال

    انقلابِ ایران کے بعد اسرائیل مضبوط کیوں ہوا؟ وہ تلخ سچ جو کوئی نہیں بتاتا

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.