تحریر: ریاض ابوالخیل
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
یہ کسی ایک پولیس افسر کا کم سن بیٹا نہیں، جو اپنے شہید باپ کی قبر کے سامنے کھڑا، آنکھوں میں دلگداز آنسو لیے اور سینے میں ریزہ ریزہ دل تھامے اپنے باپ کو سلامی دے رہا ہے۔
میں تو اس بچے کی نم آنکھوں میں لاتعداد شہیدوں کی دردناک کہانیاں دیکھ رہا ہوں۔
اس کے لرزتے ہاتھ کے سیلوٹ میں ہزاروں شکوے، بے شمار سوال اور نہ جانے کتنی خاموش فریادیں سنائی دے رہی ہیں۔
وہ شاید ابھی اتنا بڑا نہیں ہوا کہ دہشت گردی، جنگ، قربانی اور شہادت کے فلسفے کو سمجھ سکے، مگر اتنا ضرور جانتا ہے کہ جس باپ کی انگلی تھام کر وہ چلنا سیکھتا تھا، آج وہ باپ مٹی کی آغوش میں سو رہا ہے۔
وہ قبر کو سلامی دے رہا ہے، مگر شاید دل ہی دل میں پوچھ رہا ہے:
بابا! آپ ہمیں چھوڑ کر کیوں چلے گئے؟
کیا آپ کی وردی کا یہی صلہ تھا؟
کیا آپ کی قربانی کے بعد بھی کوئی اور بچہ اسی طرح یتیم ہوگا؟
بلاشبہ مادرِ وطن پر جان نچھاور کرنا ایک عظیم سعادت ہے۔ پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے بہادر جوان اپنے فرائض کی ادائیگی میں جان کا نذرانہ پیش کرتے ہیں، اور پوری قوم ان کی قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے۔ شہید کا خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا قربانی کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے افسر اور جوان سرحدوں کے اندر ہی ایک ایک کرکے کٹتے اور مرتے رہیں؟
کیا ہم اتنے بے بس، بے حس اور کمزور ہوچکے ہیں کہ اپنے شہروں، بازاروں، عبادت گاہوں، چوکیوں اور پولیس لائنز کو محفوظ بنانے کے لیے کوئی دیرپا اور مؤثر نظام وضع نہیں کرسکتے؟
دہشت گردی کا مقابلہ صرف بندوق سے نہیں، حکمتِ عملی، جدید ٹیکنالوجی، مؤثر انٹیلی جنس، مضبوط نگرانی اور بروقت حفاظتی اقدامات سے بھی کیا جاتا ہے۔ ایک شہید کی قبر پر پھول چڑھانا ضروری ہے، مگر اس سے کہیں زیادہ ضروری یہ ہے کہ اگلی قبر بننے سے پہلے اس کا راستہ روکا جائے۔
مردان کے اس شہید پولیس افسر کے بیٹے کا یہ سیلوٹ صرف اپنے باپ کے لیے نہیں۔
یہ ان تمام شہیدوں کے نام ایک سلام ہے جنہوں نے وردی پہن کر وطن کی حفاظت کی اور اپنے بچوں کو ہمیشہ کے لیے آنسو دے گئے۔
اس بچے کے آنسو ہم سے پوچھ رہے ہیں:
آخر کب تک؟
کب تک ماؤں کی گودیں اجڑتی رہیں گی؟
کب تک بچے اپنے باپ کی قبروں کو سلامی دیتے رہیں گے؟
کب تک شہادت کے بعد تعزیتی بیانات جاری ہوتے رہیں گے اور اگلے سانحے کا انتظار کیا جائے گا؟
شہیدوں کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ صرف یہ نہیں کہ ہم ان کے جنازوں میں شریک ہوں یا ان کی قبروں پر پھول چڑھائیں؛ بلکہ اصل خراج یہ ہے کہ ان کے بعد آنے والے جوانوں کو محفوظ رکھا جائے۔
اس ننھے شہید زادے کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھیں۔
وہاں صرف آنسو نہیں، ایک پوری قوم کا سوال ہے۔
اس کے لرزتے ہاتھ میں صرف سیلوٹ نہیں، آنے والے کل کی فریاد بھی ہے۔
اور اس کی خاموشی شاید ہم سب سے کہہ رہی ہے:
میرے بابا کی قربانی کو صرف ایک خبر نہ بننے دینا،
اسے ایسا سبق بنانا کہ کسی اور بچے کو اپنے باپ کی قبر پر یوں سیلوٹ نہ کرنا پڑے۔
یہ تصویر ہمیں رلاتی ضرور ہے، مگر اس سے کہیں زیادہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔
کیونکہ ایک شہید کا بیٹا جب باپ کی قبر کو سلامی دیتا ہے تو وہ منظر صرف آنکھوں کو نم نہیں کرتا، پوری قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔


