Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      آرٹی فیشل انٹیلی جنس بے قابو، گوگل جیمنائی نے بھی تین کمپنیوں کے سسٹمز ہیک کر لیے

      مصنوعی ذہانت کا استعمال: امریکی فوج چین کے خلاف بڑی مشکل میں پھنستے پھنستے بچ گئی

      گیمنگ کی دنیا میں طوفان: ’جی ٹی اے 6‘ کے خصوصی ڈوئل سینس کنٹرولر کی رونمائی، قیمت اور لانچ کی تاریخ سامنے آ گئی

      گوتم اڈانی سے ایشیا کے امیر ترین شخص کا اعزاز کس نے چھینا؟

      امریکا کے امیر ترین شخص ہونے کے ساتھ دنیا کے پہلے کھرب پتی ہونے کا اعزاز

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    ایک ننھا سا سیلوٹ اور ہزاروں سوال

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

     تحریر: ریاض ابوالخیل

      جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    یہ کسی ایک پولیس افسر کا کم سن بیٹا نہیں، جو اپنے شہید باپ کی قبر کے سامنے کھڑا، آنکھوں میں دلگداز آنسو لیے اور سینے میں ریزہ ریزہ دل تھامے اپنے باپ کو سلامی دے رہا ہے۔
    میں تو اس بچے کی نم آنکھوں میں لاتعداد شہیدوں کی دردناک کہانیاں دیکھ رہا ہوں۔
    اس کے لرزتے ہاتھ کے سیلوٹ میں ہزاروں شکوے، بے شمار سوال اور نہ جانے کتنی خاموش فریادیں سنائی دے رہی ہیں۔
    وہ شاید ابھی اتنا بڑا نہیں ہوا کہ دہشت گردی، جنگ، قربانی اور شہادت کے فلسفے کو سمجھ سکے، مگر اتنا ضرور جانتا ہے کہ جس باپ کی انگلی تھام کر وہ چلنا سیکھتا تھا، آج وہ باپ مٹی کی آغوش میں سو رہا ہے۔
    وہ قبر کو سلامی دے رہا ہے، مگر شاید دل ہی دل میں پوچھ رہا ہے:
    بابا! آپ ہمیں چھوڑ کر کیوں چلے گئے؟
    کیا آپ کی وردی کا یہی صلہ تھا؟
    کیا آپ کی قربانی کے بعد بھی کوئی اور بچہ اسی طرح یتیم ہوگا؟
    بلاشبہ مادرِ وطن پر جان نچھاور کرنا ایک عظیم سعادت ہے۔ پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے بہادر جوان اپنے فرائض کی ادائیگی میں جان کا نذرانہ پیش کرتے ہیں، اور پوری قوم ان کی قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے۔ شہید کا خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔
    لیکن سوال یہ ہے کہ کیا قربانی کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے افسر اور جوان سرحدوں کے اندر ہی ایک ایک کرکے کٹتے اور مرتے رہیں؟
    کیا ہم اتنے بے بس، بے حس اور کمزور ہوچکے ہیں کہ اپنے شہروں، بازاروں، عبادت گاہوں، چوکیوں اور پولیس لائنز کو محفوظ بنانے کے لیے کوئی دیرپا اور مؤثر نظام وضع نہیں کرسکتے؟
    دہشت گردی کا مقابلہ صرف بندوق سے نہیں، حکمتِ عملی، جدید ٹیکنالوجی، مؤثر انٹیلی جنس، مضبوط نگرانی اور بروقت حفاظتی اقدامات سے بھی کیا جاتا ہے۔ ایک شہید کی قبر پر پھول چڑھانا ضروری ہے، مگر اس سے کہیں زیادہ ضروری یہ ہے کہ اگلی قبر بننے سے پہلے اس کا راستہ روکا جائے۔
    مردان کے اس شہید پولیس افسر کے بیٹے کا یہ سیلوٹ صرف اپنے باپ کے لیے نہیں۔
    یہ ان تمام شہیدوں کے نام ایک سلام ہے جنہوں نے وردی پہن کر وطن کی حفاظت کی اور اپنے بچوں کو ہمیشہ کے لیے آنسو دے گئے۔
    اس بچے کے آنسو ہم سے پوچھ رہے ہیں:
    آخر کب تک؟
    کب تک ماؤں کی گودیں اجڑتی رہیں گی؟
    کب تک بچے اپنے باپ کی قبروں کو سلامی دیتے رہیں گے؟
    کب تک شہادت کے بعد تعزیتی بیانات جاری ہوتے رہیں گے اور اگلے سانحے کا انتظار کیا جائے گا؟
    شہیدوں کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ صرف یہ نہیں کہ ہم ان کے جنازوں میں شریک ہوں یا ان کی قبروں پر پھول چڑھائیں؛ بلکہ اصل خراج یہ ہے کہ ان کے بعد آنے والے جوانوں کو محفوظ رکھا جائے۔
    اس ننھے شہید زادے کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھیں۔
    وہاں صرف آنسو نہیں، ایک پوری قوم کا سوال ہے۔
    اس کے لرزتے ہاتھ میں صرف سیلوٹ نہیں، آنے والے کل کی فریاد بھی ہے۔
    اور اس کی خاموشی شاید ہم سب سے کہہ رہی ہے:
    میرے بابا کی قربانی کو صرف ایک خبر نہ بننے دینا،
    اسے ایسا سبق بنانا کہ کسی اور بچے کو اپنے باپ کی قبر پر یوں سیلوٹ نہ کرنا پڑے۔
    یہ تصویر ہمیں رلاتی ضرور ہے، مگر اس سے کہیں زیادہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔
    کیونکہ ایک شہید کا بیٹا جب باپ کی قبر کو سلامی دیتا ہے تو وہ منظر صرف آنکھوں کو نم نہیں کرتا، پوری قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔

    Related Posts

    انقلابِ ایران کے بعد اسرائیل مضبوط کیوں ہوا؟ وہ تلخ سچ جو کوئی نہیں بتاتا

    کوھاٹ پولیس لائن دھماکا: شہید والد کی قبر پر کمسن بچے کا سلوٹ، ہر آنکھ اشبار

    1122: سہولت جو موجود ہوتے ہوئے بھی نہ ہونے کے برابر ہے

    مقبول خبریں

    دیپیکا پڈوکون اور رنویر سنگھ کے ہاں دوسری بیٹی کی پیدائش، پرستاروں میں خوشی کی لہر

    لسبیلہ میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے منصوبوں میں سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف، انکوائری کی سفارش

    ”کالے رنگ کو گورا بنائے۔۔۔ تے گورے نوں چن ورگا“ بھارت نے پاکستانی کریموں پر پابندی لگادی

    سیالکوٹ: غیرت کے نام پر بہن کو ق ت ل کر دیا

    ریاض پر بیلسٹک میزائل سے حملہ کیا گیا، جو ناکام بنا دیا،سعودی عرب کی تصدیق

    بلاگ

    ایک ننھا سا سیلوٹ اور ہزاروں سوال

    انقلابِ ایران کے بعد اسرائیل مضبوط کیوں ہوا؟ وہ تلخ سچ جو کوئی نہیں بتاتا

    کوھاٹ پولیس لائن دھماکا: شہید والد کی قبر پر کمسن بچے کا سلوٹ، ہر آنکھ اشبار

    1122: سہولت جو موجود ہوتے ہوئے بھی نہ ہونے کے برابر ہے

    پروفیسر ملک احمد شیر کھارا — علم و تدریس کا روشن استعارہ

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.