تحریر :محمد اشفاق
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
آج عام طور پر یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ عرب ممالک بزدل ہیں اور انہوں نے کبھی اسرائیل کے خلاف قدم نہیں اٹھایا، جبکہ یہ تاریخ کا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ 1948 سے لے کر 1979 تک عرب دنیا اسرائیل کے خلاف ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنی رہی۔
-
1948 کی جنگ: مصر، اردن، شام، عراق، سعودی عرب اور لبنان نے مل کر اسرائیل کا مقابلہ کیا۔
-
1956 کی جنگ: مصر نے اکیلے اسرائیل، برطانیہ اور فرانس کے خلاف محاذ سنبھالا۔
-
1967 کی جنگ: مصر، اردن، شام اور عراق نے ایک بار پھر مل کر اسرائیل سے معرکہ آرائی کی۔
-
1973 کی جنگ: مصر اور شام نے اسرائیل کے دانت کھٹے کیے، جبکہ سعودی عرب نے تیل کو بطور ہتھیار استعمال کر کے امریکہ اور مغرب کو ہلا کر رکھ دیا۔ الجزائر، مراکش، کویت، لیبیا اور تیونس جیسے ممالک نے بھی اپنے فوجی دستے بھیجے۔
اس دور میں عرب متحد تھے اور اسرائیل شدید خوف میں مبتلا تھا، لیکن 1979 کے خمینی انقلاب نے خطے کا نقشہ اور اسرائیل کی قسمت بدل کر رکھ دی۔
انقلاب کے بعد اگرچہ ایران کی جانب سے "اسرائیل کو مٹانے” اور "القدس کو آزاد کرانے” کے فلک شگاف نعرے لگائے گئے، لیکن عملی طور پر نقشہ بالکل مختلف نظر آیا۔ ایران نے براہِ راست اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے بجائے انہی عرب ممالک میں اپنی پراکسیز (Proxy Groups) قائم کرنا شروع کر دیں جنہوں نے ماضی میں اسرائیل کے خلاف جنگیں لڑی تھیں۔
لبنان: جس لبنان نے 1948 میں اسرائیل کا مقابلہ کیا، وہاں حزب اللہ قائم ہوئی۔ آج وہاں کی قومی فوج کمزور اور حزب اللہ کی "ریاست کے اندر ریاست” قائم ہے—نتیجتاً لبنان تباہ اور اسرائیل محفوظ ہے۔
شام: جس شام نے اسرائیل کے خلاف 3 بڑی جنگیں لڑیں، وہاں زینبیون، فاطمیون اور حزب اللہ جیسے گروپس مضبوط کیے گئے۔ شام میں لاکھوں سنی مسلمان قتل اور بے گھر ہوئے، شامی فوج تباہ ہو گئی اور آج اسرائیل بلا خوف شام پر بمباری کرتا ہے۔
1948، 1967 اور 1973 کی جنگوں کا اہم فریق عراق 2003 کے بعد اندرونی دھڑے بندیوں اور مختلف ملٹی گریڈ گروپس کے باعث شدید متاثر ہوا، جس سے اسرائیل مزید محفوظ ہوتا گیا۔
عرب اتحاد کا حصہ رہنے والے یمن میں حوثی تحریک کھڑی کی گئی، جس سے یمن خود تو تباہ ہوا ہی، لیکن ان کے حملوں کا رخ زیادہ تر ہمسایہ مسلمان ممالک کی طرف رہا۔
سعودی عرب: جس نے 1948 اور 1973 میں فوج اور تیل کے ذریعے فلسطین کی حمایت کی، آج وہی مملکت انہی علاقائی پراکسیز کے حملوں کا ہدف بنی ہوئی ہے۔
اصل فارمولا اور نتیجہ:
1979 سے پہلے عرب ممالک متحد ہو کر اسرائیل سے لڑتے تھے۔ انقلاب کے بعد عرب دنیا اندرونی انتشار اور آپسی کشمکش کا شکار ہو گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عرب ممالک کی عسکری صلاحیتیں کمزور ہوئیں، علاقائی پراکسیز مضبوط ہوئیں اور اسرائیل خطے میں سب سے زیادہ محفوظ مقام پر آ گیا۔
آج غزہ جل رہا ہے، ہزاروں بے گناہ بچے اور شہری شہید ہو رہے ہیں، لیکن اس تمام عسکری تسلسل کا کوئی خاطر خواہ اثر اسرائیل کی پیش قدمی کو روکنے میں نظر نہیں آ رہا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیل ان پراکسیز کی موجودگی سے عرب دنیا کو تقسیم اور کمزور رکھنے کا کام لے رہا ہے۔
اسرائیل کو اصل خطرہ متحد عرب فوجوں سے تھا، لیکن اندرونی خلفشار نے ان فورسز کے اثر کو زائل کر دیا۔ اب فیصلہ تاریخ اور بصیرت رکھنے والے قارئین کے ہاتھ میں ہے کہ 1979 سے پہلے کا اسرائیل زیادہ غیر محفوظ تھا یا 1979 کے بعد کا؟


