واشنگٹن / نیویارک:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی ہم منصب شی جن پنگ کے درمیان متوقع اہم سربراہی اجلاس سے قبل دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ نیویارک میں تقریبا آٹھ گھنٹے تک بات چیت کے بعد امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ (Scott Bessent) نے چین کے ساتھ تجارت، مصنوعی ذہانت (AI) اور اسٹریٹجک امور پر مثبت پیش رفت کا اعلان کیا ہے۔
نیویارک کے ’جے پی مورگن چیس‘ بینک کے صدر دفتر میں ہونے والی ان ملاقاتوں میں چینی نائب وزیراعظم ہی لي فینگ (He Lifeng) اور امریکی تجارتی نمائندے جیمیسون گریئر (Jamieson Greer) نے بھی شرکت کی۔ بات چیت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خزانہ نے مذاکرات کو "انتہائی کامیاب” قرار دیا۔
ملاقات کا ایک اہم ترین نکتہ مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں تعاون اور حفاظتی انتظامات طے کرنا تھا۔ اسکاٹ بیسنٹ نے بتایا کہ واشنگٹن نے دونوں ممالک کے درمیان حادثات سے متعلق باہمی اطلاع رسانی کا ایک نیا میکانزم قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے، جسے "امریکہ چین مصنوعی ذہانت مذاکرات” کا نام دیا جائے گا، تاکہ اے آئی سے جڑے سیکیورٹی خطرات کا مشترکہ طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔ دونوں فریقوں نے اس سلسلے میں مستقبل میں مزید ملاقاتیں جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
امریکہ اور بیجنگ کے درمیان اس وقت متعدد تجارتی اور تکنیکی امور پر مذاکرات تاحال جاری ہیں جس کے تحتتجارتی جنگ بندی میں توسیع کا امکان، جس کا مقصد عالمی معیشت کو مزید دھچکوں سے بچانا ہے۔
جبکہ امریکی فیکٹریوں کے لیے نادر معدنیات کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانا بھی شامل ہے اسی طرح گذشتہ مذاکرات میں چین کی جانب سے امریکی زرعی اشیاء خریدنے کے وعدوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے ورکنگ گروپس کے اجلاس آئندہ چند روز تک بھی جاری رہ سکتے ہیں۔ یہ تمام تر سفارتی کوششیں جمعرات کو واشنگٹن میں صدر ٹرمپ اور صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی براہِ راست ملاقات سے قبل کی جا رہی ہیں، تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی اور تکنیکی اختلافات کو کم کر کے کسی بھی بڑی معاشی محاذ آرائی سے بچا جا سکے۔

