کرناٹک / نئی دہلی:بھارتی ریاست کرناٹک کے علاقے ماندیا سے ایک ایسا حیرت انگیز اور ناقابل یقین واقعہ سامنے آیا ہے جس نے سب کو دنگ کر دیا۔ گلی محلوں میں بھیک مانگ کر اپنا پیٹ پالنے والی ایک بزرگ خاتون کے انتقال کے بعد جب ان کے گھر کی تلاشی لی گئی تو وہاں سے پیسوں سے بھری تیس سے زائد بوریاں برآمد ہوئیں، جن کی مجموعی مالیت تقریباً نو لاکھ انڈین روپے بنتی ہے۔
انڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ ماندیا کے علاقے میں پیش آیا جہاں 68سالہ نور نامی خاتون کئی برسوں سے ایک چھوٹے سے کرائے کے مکان میں مقیم تھیں۔ ان کے ساتھ ان کی ایک علیل بہن بھی رہتی تھیں، اور دونوں میں سے کسی نے شادی نہیں کی تھی جبکہ ان کے دیگر عزیز و اقارب کے بارے میں بھی ہمسایوں کو زیادہ علم نہیں تھا۔ حور اکثر گلیوں اور بازاروں میں مانگ کر گزارہ کرتی تھیں جبکہ ان کی بیمار بہن زیادہ تر گھر کے اندر ہی رہتی تھیں۔ دو سال قبل حور کی بہن کا انتقال ہو گیا تھا، جس کے بعد بھی وہ اسی گھر میں اکیلی مقیم رہیں اور بھیک مانگنے کا سلسلہ جاری رکھا۔
A 68-year-old beggar, Noor, was found dead at her home in Mandya, where locals were surprised to discover around Rs 8.4 lakh in coins and notes stuffed into more than 30 sacks. The money was handed over to her two brothers, with one receiving Rs 6 lakh and the other donating his… pic.twitter.com/TS49GNetmI
— Salar News (@EnglishSalar) August 24, 2026
کچھ روز قبل جب محلے کی خواتین نے دیکھا کہ حور کافی عرصے سے گھر سے باہر نہیں آئیں اور بیمار ہیں، تو انہوں نے اندر جا کر دیکھا کہ حور اس دنیا سے جا چکی تھیں۔ تاہم، جب اہل محلہ نے ان کے گھر کا جائزہ لیا تو وہ اندر کا منظر دیکھ کر دنگ رہ گئے۔
گھر کی انتہائی خستہ حالی اور بکھرے ہوئے سامان کے درمیان، چارپائی کے نیچے اور کمرے کے کونوں میں تیس سے زائد ایسی بوریاں پڑی تھیں جو نوٹوں اور سکوں سے بھری ہوئی تھیں۔ جب ان بوریوں کو کھول کر دیکھا گیا تو ان میں زیادہ تر ۱۰ اور ۲۰ روپے کے نوٹوں کی گڈیاں اور سکے بھرے ہوئے تھے۔
اہل محلہ نے تمام بوریوں کو اکٹھا کر کے جب رقم کی گنتی کی تو وہ حیران رہ گئے کیونکہ یہ کل رقم تقریباً نو لاکھ انڈین روپے تھی۔ بعد ازاں، محلے داروں نے انتہائی دیانت داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان تمام بوریوں کو محفوظ رکھا اور خاتون کے رشتہ داروں کی تلاش شروع کی، جس کے بعد ان کے دو بھائی سامنے آئے اور یہ تمام جمع شدہ دولت ان کے حوالے کر دی گئی۔

