آبنائے ہرمز کے قریب کشیدگی برقرار، ٹرمپ انتظامیہ کا فوجی کارروائی کی بجائے معاشی ناکہ بندی اور ‘آپریشن اکنامیک آؤٹ کاسٹ’ کا آغاز
واشنگٹن / بیجنگ:امریکی حکومت کی جانب سے ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھنے والے ممالک پر پابندیوں کے اعلان کے بعد عالمی سطح پر سفارتی اور معاشی محاذ پر ہلچل مچ گئی ہے۔
چین نے امریکہ کی جانب سے پابندیوں (Secondary Sanctions) کی دھمکی کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ ایسے تمام اقدامات بین الاقوامی قانون کے منافی اور غیر قانونی ہیں، اور بیجنگ اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکنہ قدم اٹھائے گا۔
امریکہ کے وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے پیر کے روز ایک نئی اقتصادی مہم کا اعلان کرتے ہوئے ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھنے والے اداروں اور افراد کو خبردار کیا تھا کہ جو بھی تہران کے ساتھ مالیاتی لین دین جاری رکھے گا اسے امریکی ڈالر کے نظام سے باہر کر دیا جائے گا۔ تاہم، اس فہرست میں تاحال کسی چینی مالیاتی ادارے کو شامل نہیں کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئندہ ماہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان متوقع سربراہ اجلاس سے قبل واشنگٹن انتہائی احتیاط سے کام لے رہا ہے، کیونکہ چین عالمی مالیاتی منڈیوں میں جوابی اقدامات یا اہم معدنیات کی برآمدات محدود کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
گارجین اخبار کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چین اور ایران کے درمیان تعاون بین الاقوامی قانون کے دائرہ کار میں ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی مداخلت ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے دہرایا کہ چین یکطرفہ اور غیر قانونی پابندیوں کی مخالفت جاری رکھے گا۔
دوسری جانب، ایران کے اقتصادی امور کے وزیر نے امریکی دھمکیوں کے جواب میں سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب ان کا دفاع محض دفاعی نہیں رہے گا۔
دریں اثنا، خلیجی ریاست متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ دوسری جانب آبنائے ہرمز کے قریب ایک آئل ٹینکر پر مبینہ حملے اور تجارتی نقل و حرکت محدود ہونے کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور معاشی استحکام پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چھ ماہ کی طویل جنگ کے بعد بھی تہران پر قابو پانے میں ناکامی کے بعد اب امریکہ نے فوجی طاقت کی بجائے معاشی گھیراؤ کا راستہ اپنایا ہے، جس کے دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

