جیکب آبادرپورٹ مجیب کھوسو
جیکب آباد میں جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کا سلسلہ جاری ہے اور شہر ایک بار پھر قتل گاہ بن گیا۔ سوئی گیس آفس کے سامنے کھڑی ایک کلٹس کار سے نوجوان اختر ولد اکبر علی چانڈیو کی گولی لگی لاش برآمد ہوئی، جبکہ اطلاع کے باوجود 1122 ایمرجنسی ایمبولینس سروس تقریباً دو گھنٹے بعد جائے وقوعہ پر پہنچی۔
تفصیلات کے مطابق جیکب آباد شہر میں سوئی گیس آفس کے سامنے کھڑی کلٹس کار سے اختر چانڈیو کی گولی لگی لاش ملنے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور لاش سمیت گاڑی کو تحویل میں لے کر تحقیقات شروع کر دیں۔ مقتول کے والد اکبر علی چانڈیو نے بتایا کہ، “ہماری کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے، میرا بیٹا صبح سویرے گھر سے نکلا تھا، اب اطلاع ملی ہے کہ میرے بیٹے کی لاش گاڑی میں پڑی ہوئی ہے۔” انہوں نے واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
واقعے کے حوالے سے ڈی ایس پی خدا بخش پنہور نے بتایا کہ مقتول کے دماغ میں ایک گولی لگی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم کے بعد مزید فنی تحقیقات کے لیے ماہرین کی ٹیم بلائی جائے گی اور واقعے کو ٹریس کرنے کے بعد ہی مزید کچھ حتمی طور پر بتایا جا سکے گا۔
لاش کو ضروری قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ پولیس نے واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی طور پر اسے قتل، خودکشی یا کسی اور واقعے کا نتیجہ قرار دینے سے متعلق حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا رہا۔


