لاہور(نعیم احمد سے)
ناکارہ اور ناقابل استعمال گاڑیوں کی سکریپنگ کے لیے باقاعدہ قانونی فریم ورک متعارف کرا دیا گیا ہے۔اینڈ آف لائف وہیکلز کی سکریپنگ کے لیے موٹر وہیکلز آرڈیننس 1965 میں ترمیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ آرڈیننس کو باقاعدہ قانونی تحفظ دینے کے لیے پنجاب اسمبلی سے منظور کرایا جائے گا۔ترمیم کے تحت موٹر وہیکل کی رجسٹریشن یا تجدید مقررہ شرائط پوری نہ کرنے پر منسوخ کی جا سکے گی، جبکہ ایمیشن سرٹیفکیٹ حاصل نہ کرنے یا مقررہ مدت میں اس کی تجدید نہ کرانے پر بھی کارروائی کی جا سکے گی۔حادثے، آتشزدگی یا قدرتی آفت سے تباہ شدہ گاڑی کو بھی اینڈ آف لائف وہیکل قرار دیا جا سکے گا، جبکہ گاڑی کا مالک رضاکارانہ طور پر اپنی گاڑی سکریپنگ کے لیے پیش کر سکے گا۔اینڈ آف لائف گاڑیوں کی سکریپنگ صرف منظور شدہ سکریپنگ سہولت کے ذریعے کی جا سکے گی، جبکہ پنجاب حکومت نے گاڑیوں کی سکریپنگ کے لیے قواعد و ضوابط بنانے کا اختیار بھی حاصل کر لیا ہے۔پراونشل موٹر وہیکلز تھرڈ ترمیمی آرڈیننس 2026 کو فوری طور پر نافذ العمل قرار دے دیا گیا ہے۔گورنر پنجاب کی منظوری سے موٹر وہیکلز آرڈیننس 1965 میں تیسری ترمیم کا آرڈیننس جاری کیا گیا، جبکہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس نہ ہونے کے باعث گورنر پنجاب نے یہ آرڈیننس جاری کیا۔اینڈ آف لائف گاڑیوں کی سکریپنگ سے متعلق نوٹیفکیشن پنجاب گزٹ میں 23 جولائی 2026 کو شائع کیا گیا۔

