تہران: ایران نے اپنی ضبط شدہ رقم کی نصب مالیت 50 ارب ڈالر فوری واپس مانگ لثے،ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کے دورہ قطر کے دوران منجمد ایرانی فنڈز کی واگزاری کے طریقہ کار پر بات چیت کی گئی۔
ذرائع نے انکشاف کیا کہ ایران نے تقریباً 24 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔ ذرائع کا اشارہ ہے کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ متوقع مفاہمت کی یادداشت کے اعلان کے ساتھ ہی ان فنڈز کا نصف حصہ فوری طور پر حاصل کرنے پر اصرار کر رہا ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ ایران ان مالی اور سفارتی انتظامات کے تحت، جن پر ابھی مذاکرات جاری ہیں منجمد اثاثوں کا دوسرا نصف حصہ زیادہ سے زیادہ 60 دنوں کے اندر منتقل کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایرانی چیف مذاکرات کار دوحہ میں قطری حکام کے ساتھ مشاورت کے بعد منگل کے روز وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔فارس نیوز ایجنسی نے بھی قطری دارالحکومت سے ایرانی مذاکراتی وفد کی واپسی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ تہران اور دوحہ کے اعلیٰ حکام کے مابین ہونے والی بات چیت کا بنیادی محور منجمد ایرانی فنڈز کی واپسی تھا۔
ایک باخبر ایرانی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ قالیباف کے دورہ قطر سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق مذکورہ ذرائع نے واضح کیا کہ قالیباف کے دورہ دوحہ کا مقصد بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کے حوالے سے کسی معاہدے تک پہنچنا تھا۔
مختلف اندازوں کے مطابق منجمد ایرانی اثاثوں کی کل مالیت 100 ارب ڈالر سے زیادہ ہے، اگرچہ اس حوالے سے کوئی حتمی یا متفقہ ہندسہ موجود نہیں ہے۔
یہ اثاثے غیر ملکی زرِ مبادلہ کی فراہمی کے لیے انتہائی حیاتیاتی اہمیت کے حامل ہیں۔ امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے گذشتہ فروری میں ایک بریفنگ کے دوران تسلیم کیا تھا کہ واشنگٹن نے جان بوجھ کر ایران کے اندر ڈالر کی کمی پیدا کی، جس کے نتیجے میں وہاں معاشی بحران اور اندرونی احتجاجی مظاہروں نے جنم لیا۔
امن ڈیل :ایران نے امریکا سے ضبط شدہ 100 ارب ڈالر کی نصف رقم فوری واپس مانگ لی

