لندن+ ریاض: ایران پر امریکی حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی نئی کشیدگی نے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ منگل کے روز برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 4 فیصد تک کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کی بندش اور جنگ کے خاتمے کے حوالے سے بڑھتی ہوئی غیر یقینی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں غیر ملکی جہازوں کی آمدورفت پر پابندی کے باعث دنیا بھر میں تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی سپلائی لائن بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس آبنائے سے عالمی توانائی کی ترسیل کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے، جس کی بندش عالمی سطح پر توانائی کے بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
مارکیٹ کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق:
برینٹ خام تیل: 3.78 ڈالر (تقریباً 3.9 فیصد) اضافے کے ساتھ 99.92 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI): اس میں 2.88 ڈالر (3 فیصد) کی کمی دیکھی گئی اور یہ 93.72 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
گزشتہ روز تک سرمایہ کار اس امید پر تھے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی ممکنہ امن معاہدے کے بعد حالات معمول پر آ جائیں گے، جس کے باعث پیر کو برینٹ خام تیل کی قیمتیں 20 اپریل کے بعد اپنی کم ترین سطح پر تھیں۔ تاہم، منگل کے روز ہونے والے حملوں نے ان تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔
میٹریل ڈے کی تعطیل کے بعد جب مارکیٹ کھلی تو سرمایہ کاروں کے محتاط رویے نے WTI کی قیمتوں پر بھی اثر ڈالا ہے، جو 22 اپریل کے بعد اپنی کم ترین سطح پر بند ہونے کی جانب گامزن ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی، تو آنے والے دنوں میں توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ خارج از امکان نہیں۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی: خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اچھال، عالمی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی

