مکہ مکرمہ: عید الاضحی کی نماز کے سب سے بڑے اجتماعات مسجد الحرام اور مسجد نبویﷺ میں ہوئے، یہاں غزہ اور مغربی کنارے کے مظلوم فلسطینیوں سمیت پوری امت مسلمہ کی خوشحالی کے لیے دعائیں کی گئیں۔
سعودی قیادت کو عید کے موقع پر متعدد اسلامی ملکوں کے رہنماوں کی جانب سے مبارکباد دی جارہی ہے۔
ادھر مقبوضہ فلسطین میں پابندیوں اور رکاوٹوں کے باوجود مسلمانوں کی بڑی تعداد عید کی تیاریوں میں مشغول نظر آئی۔
انڈونیشیا، ملائیشیا، مصر سمیت خطے کے دیگر ممالک میں بھی عیدالاضحیٰ منائی جارہی ہے اور اس موقع پر بھرپور روایتی جوش وخروش دیکھا جارہا ہے۔
یورپی ممالک، برطانیہ، امریکا، کینیڈا، فرانس، آسٹریلیا اور فلپائن میں بھی عیدالاضحیٰ کے رنگ چھائے ہوئے ہیں جہاں مسلم کمیونٹی نے مذہبی جذبے کے ساتھ سنت ابراہیمی کی پیروی کی۔
بھارت میں بھی آج عید الاضحیٰ پورے مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جارہی ہے۔
نماز عید کے بعد امت مسلمہ، ملکی سلامتی اور ترقی کے لیے خصوصی دعاؤں میں مصروف نظر آئے۔ نماز عید کی ادائیگی کے بعد سنتِ ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے قربانی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جو دن بھر جاری رہے گا۔
دوسری جانب 17 لاکھ سے زائد حجاج کرام مزدلفہ میں رات گزارنے کے بعد منیٰ پہنچ کر حج کے آخری بڑے رکن ’رمی جمرات‘ کی ادائیگی میں مصروف ہیں، حجاج کرام نے رات مزدلفہ میں گزاری اور کنکریاں جمع کیں۔
حجاج کرام آج جمرات میں بڑے شیطان کو کنکریاں مار کر جانوروں کی قربانی کریں گے اور سر منڈوا کر احرام کھول دیں گے۔
سعودی عرب سمیت مشرق وسطیٰ، یورپ، مشرق بعید میں آج جوش و جذبے کے ساتھ عید الاضحیٰ منائی جارہی ہے، حج اختتامی مراحل میں داخل

