تحریر: ڈاکٹر داؤد
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

پاکستان کی نقدی پر مبنی معیشت پہلے ہی غیر دستاویزی لین دین کے مسائل سے دوچار ہے۔ قربانی کے موسم میں یہ صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے کیونکہ مویشیوں کی خرید و فروخت زیادہ تر نقد رقم کے ذریعے ہوتی ہے۔ کوئی شخص نامعلوم ذرائع سے حاصل شدہ بھاری رقم سے جانور خرید سکتا ہے، پھر انہیں مختلف بیوپاریوں کے ذریعے فروخت کر کے اس رقم کو بظاہر “جائز کاروباری منافع” ظاہر کر سکتا ہے۔ چونکہ کئی مویشی منڈیوں میں مناسب ریکارڈ اور دستاویزات موجود نہیں ہوتیں، اس لیے رقم کے اصل ذرائع کا سراغ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔ یوں گندا یا غیر قانونی پیسہ بظاہر “صاف” نظر آنے لگتا ہے۔
یہ واضح رہنا چاہیے کہ مویشیوں کا کاروبار بذاتِ خود کوئی مسئلہ نہیں۔ لاکھوں دیانتدار کسان، تاجر، مزدور، ڈرائیور اور عام شہری اسی موسمی معیشت سے روزگار حاصل کرتے ہیں۔ اصل مسئلہ وہ خامیاں ہیں جن سے ٹیکس چور، اسمگلر، بدعنوان عناصر اور جرائم پیشہ افراد فائدہ اٹھاتے ہیں۔ بڑے پیمانے پر غیر ریکارڈ شدہ نقد لین دین غیر قانونی دولت کو جائز کاروبار کے ساتھ ملانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
ایک اور اہم مسئلہ مصنوعی مہنگائی کا ہے۔ بعض اوقات جانوروں کی قیمتیں دانستہ طور پر بڑھائی جاتی ہیں تاکہ جعلی کاروباری حجم ظاہر کیا جا سکے۔ اس طرح بعض لوگ اپنی مشکوک دولت کا جواز پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ عید کے موسم میں کچھ افراد عارضی طور پر خود کو “مویشی تاجر” ظاہر کر کے بڑی رقوم کو قانونی آمدن کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ عارضی اور ہجوم سے بھرپور منڈیوں میں مالیاتی نگرانی تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔
اس صورتحال کا نقصان بالواسطہ طور پر عام شہریوں کو بھی اٹھانا پڑتا ہے۔ جب غیر قانونی پیسہ بازار میں آتا ہے تو قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھ جاتی ہیں اور قربانی کے جانور متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر ہو جاتے ہیں۔ طاقتور بیوپاری اور دلال قیمتوں اور رسائی پر اثر انداز ہو کر حقیقی کسانوں کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دھوکہ دہی کے واقعات بھی بڑھ جاتے ہیں، جیسے جعلی ملکیت، فرضی ویکسینیشن ریکارڈ، غلط وزن، جعلی آن لائن بکنگ اور ایڈوانس رقم ہڑپ کرنے کے فراڈ۔
عام خریداروں کو چاہیے کہ قربانی کے جانور خریدتے وقت احتیاط سے کام لیں۔ جہاں ممکن ہو رجسٹرڈ اور معروف منڈیوں سے خریداری کریں۔ ڈیجیٹل ادائیگی یا رسید کا استعمال کچھ حد تک تحفظ اور ریکارڈ فراہم کر سکتا ہے۔ نامعلوم آن لائن فروخت کنندگان کو بڑی رقم بھیجنے سے گریز کریں جب تک ان کی تصدیق نہ ہو جائے۔ ایسے بیوپاری جو شناخت دینے سے انکار کریں یا غیر حقیقی رعایتیں پیش کریں، ان سے محتاط رہنا ضروری ہے۔ “صرف نقدی، کوئی سوال نہیں” والی سوچ وقتی آسانی تو دیتی ہے مگر غیر دستاویزی معیشت کو بھی مضبوط کرتی ہے۔
مذہبی عبادات کو مالیاتی ہیرا پھیری کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ قربانی ایثار، دیانت داری اور سماجی ذمہ داری کی علامت ہے۔ غیر قانونی دولت کو “پاک” بنانے کے لیے اس مقدس عمل کا استعمال نہ صرف اخلاقی بلکہ اسلامی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ اسلام ناجائز کمائی اور دھوکہ دہی کی ہر شکل کی مذمت کرتا ہے، چاہے اسے مذہبی یا خیراتی رنگ ہی کیوں نہ دیا جائے۔
حکومت کی ذمہ داری بھی انتہائی اہم ہے۔ اربوں روپے کے لین دین والی عارضی مویشی منڈیوں کو مکمل طور پر غیر دستاویزی نہیں چھوڑا جا سکتا۔ بڑے تاجروں کی رجسٹریشن، ڈیجیٹل ادائیگیوں کی حوصلہ افزائی، کمپیوٹرائزڈ رسیدوں اور مشکوک نقد لین دین کی نگرانی جیسے اقدامات ضروری ہیں۔ مقامی انتظامیہ، ٹیکس حکام اور مالیاتی انٹیلی جنس اداروں کے درمیان تعاون سے مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے، جبکہ دیانتدار تاجروں کو غیر ضروری ہراسانی سے بھی بچایا جا سکتا ہے۔
تاہم اصلاحات متوازن ہونی چاہئیں۔ ضرورت سے زیادہ بیوروکریسی یا اضافی ٹیکس پہلے ہی مشکلات کا شکار دیہی تاجروں اور کسانوں کے لیے مزید مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ مقصد عام شہری پر بوجھ ڈالنا نہیں بلکہ مجرمانہ عناصر کے لیے راستے بند کرنا ہونا چاہیے۔ شفاف اور منظم نظام ریاست اور عوام دونوں کے مفاد میں ہے۔
پاکستان کی معیشت اس وقت تک مضبوط نہیں ہو سکتی جب تک اربوں روپے کے موسمی نقد بہاؤ کو مؤثر نگرانی میں نہ لایا جائے۔ قربانی کی منڈیاں گندے پیسے کو “صاف” کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایمان، خدمت، ہمدردی اور جائز تجارت کی علامت ہونی چاہئیں۔ عوامی شعور، ذمہ دارانہ خریداری اور دانشمندانہ حکومتی پالیسیوں کے ذریعے اس استحصال کو کم کیا جا سکتا ہے، جبکہ عید الاضحیٰ کی روحانی خوبصورتی بھی برقرار رکھی جا سکتی ہے۔
’’قربانی منڈیاں یا منی لانڈرنگ کے اڈے؟‘‘ اربوں کی قربانی، کالے دھن کی کہانی

