واشنگٹن: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر مرکزی دھارے کے میڈیا کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ میڈیا ادارے ملک دشمنی پر اتر آئے ہیں اور وہ ہر صورت میں ان کے اور امریکا کے خلاف پروپیگنڈا کرتے ہیں۔
سابق صدر نے ‘ٹروتھ سوشل’ پر اپنے ایک جارحانہ بیان میں ایران اور امریکی میڈیا کے حوالے سے ایک فرضی منظرنامہ پیش کیا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر بالفرض ایران اپنی بحریہ اور فضائیہ کی مکمل تباہی کو تسلیم کر لے، تہران سے ان کی پوری فوج ہتھیار ڈال کر باہر نکل آئے اور وہاں کی قیادت باضابطہ طور پر امریکا کے سامنے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے ہتھیار ڈالنے کی دستاویزات پر دستخط کر دے، تب بھی امریکی میڈیا سچ نہیں دکھائے گا۔
If Iran surrenders, admits their Navy is gone and resting at the bottom of the sea, and their Air Force is no longer with us, and if their entire Military walks out of Tehran, weapons dropped and hands held high, each shouting “I surrender, I surrender” while wildly waving the… pic.twitter.com/BaQa2BbyFW
— Commentary Donald J Trump Truth Social Posts On X (@TrumpTruthOnX) May 26, 2026
ٹرمپ نے ‘نیویارک ٹائمز’، ‘وال اسٹریٹ جرنل’ اور ‘سی این این’ جیسے بڑے میڈیا اداروں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں "جعلی خبریں” (Fake News) پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ایسی صورتحال میں بھی یہ میڈیا ادارے شہ سرخی لگائیں گے کہ "ایران نے امریکا کے خلاف ایک شاندار اور ماسٹر فل فتح حاصل کر لی ہے اور مقابلہ بہت یکطرفہ تھا۔”
سابق صدر نے اپنی پوسٹ میں سیاسی مخالفین یعنی ڈیموکریٹس کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیموکریٹس اور میڈیا نے اپنا راستہ مکمل طور پر کھو دیا ہے اور وہ "بالکل پاگل” (CRAZY) ہو چکے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق، میڈیا اور سیاسی مخالفین کا گٹھ جوڑ صرف اس لیے ہے کہ وہ امریکا کی کامیابیوں کو چھپائیں اور ان کے خلاف منفی مہم چلائیں۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ طویل عرصے سے بڑے میڈیا اداروں کو "عوام دشمن” اور "جعلی خبروں کا گڑھ” قرار دیتے رہے ہیں، اور ان کا یہ تازہ ترین بیان ان کی میڈیا کے خلاف جاری کشمکش کا ایک نیا حصہ ہے۔

