پیانگ یانگ: شمالی کوریا نے جدید جنگی تقاضوں کے مطابق اپنی عسکری صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرتے ہوئے ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل، آرٹلری راکٹس اور مصنوعی ذہانت (AI) سے لیس کروز میزائلوں کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔
شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (KCNA) کے مطابق، یہ تجربات سربراہِ مملکت کم جونگ اُن کی ذاتی نگرانی میں کیے گئے۔ ان تجربات کا مقصد "اسپیشل مشن وار ہیڈ” کی طاقت، طویل فاصلے تک مار کرنے والے ملٹیپل لانچ آرٹلری راکٹس کی افادیت اور اے آئی (AI) گائیڈڈ کروز میزائلوں کی درستگی کو جانچنا تھا۔
کم جونگ اُن نے تجربات کے بعد کہا کہ ان ہتھیاروں اور خودکار لانچ سسٹم کو جدید جنگی حالات کے مطابق اپ گریڈ کر لیا گیا ہے تاکہ میدانِ جنگ میں ان کا استعمال مزید موثر بنایا جا سکے۔ خاص طور پر ان کروز میزائلوں کی تیاری پر توجہ دی گئی ہے جو جنوبی کوریا کی سرحد کے قریب تعینات کیے جائیں گے۔ یہ میزائلز 100 کلومیٹر (62 میل) کے فاصلے تک اپنے ہدف کو درست نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس کی زد میں جنوبی کوریا کا دارالحکومت سیول بھی آتا ہے۔
شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کو اپنا "بنیادی دشمن” قرار دیتے ہوئے انضمام کی پالیسی کو خیرباد کہہ دیا ہے، جس کے بعد سے جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ شمالی کوریا اپنی روایتی اور ٹیکٹیکل صلاحیتوں کو مسلسل جدید خطوط پر استوار کر رہا ہے تاکہ خطے میں اپنا دباؤ برقرار رکھ سکے۔
دوسری جانب، جنوبی کوریا کی فوج نے منگل کے روز شمالی کوریا کی جانب سے ایک بیلسٹک میزائل سمیت متعدد پروجیکٹائلز کے لانچ کی تصدیق کی ہے۔ عالمی سطح پر یہ خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ شمالی کوریا روس کو یوکرین جنگ کے لیے جو میزائل اور راکٹس فراہم کر رہا ہے، ان سے حاصل ہونے والا ‘بیٹل فیلڈ ڈیٹا’ اسے اپنے ہتھیاروں کو مزید مہلک بنانے میں مدد دے رہا ہے۔
شمالی کوریا کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے لیس جدید میزائلوں اور آرٹلری کا کامیاب تجربہ

