تحریر: سہیل احمد رانا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
“جنّے لاہور نئیں ویکھیا، او جمیا ای نئیں۔”
پاکستان میں شاید ہی کوئی ایسا شہر ہو جس کی یاد، شناخت اور تہذیبی تسلسل لاہور جیسا ہو۔ لاہور صرف نقشوں، سڑکوں اور عمارتوں میں نہیں بستا بلکہ زبان، لہجے اور روزمرہ گفتگو میں زندہ رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور کی سڑکوں، بازاروں اور محلوں کے نام تبدیل کرنے کی حکومتی کوششیں بار بار ہونے کے باوجود مکمل کامیابی حاصل نہ کر سکیں۔ سرکاری نوٹیفکیشنز سائن بورڈ تو بدل سکتے ہیں، مگر وہ اس شہر کے جذباتی جغرافیے کو نہیں مٹا سکتے جو صدیوں کی مغل عظمت، سکھ دور، ہندو تجارتی ثقافت، برطانوی نوآبادیاتی منصوبہ بندی اور آزادی کے بعد کی پاکستانی شناخت سے مل کر تشکیل پایا ہے۔
1947 کے بعد پاکستان میں قومی شناخت کی تشکیل کے عمل کے دوران حکومتوں نے ان ناموں کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جو برطانوی راج، ہندو برادریوں یا سکھ ورثے سے وابستہ تھے۔ ان کی جگہ اسلامی، قومی یا سیاسی شخصیات کے نام متعارف کروائے گئے۔ ریاستی نقطۂ نظر سے یہ اقدام قابلِ فہم تھا، کیونکہ نئی آزاد ریاستیں اکثر اپنے عوامی مقامات کو ایک نئے نظریاتی بیانیے کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتی ہیں۔ برطانوی نام غلامی کی یاد دہانی سمجھے جاتے تھے جبکہ ہندو اور سکھ حوالوں کو اس اسلامی شناخت سے غیر مطابقت پذیر تصور کیا گیا جسے ریاست ابھارنا چاہتی تھی۔ مگر لاہور نے خاموشی سے اس تبدیلی کی مزاحمت کی۔ لاہوریوں نے روزمرہ زندگی میں پرانے نام استعمال کرنا بند نہیں کیے، نہ کسی سیاسی احتجاج کے طور پر بلکہ صرف اس لیے کہ یہ نام ان کی یادداشت، ثقافت، تجارت اور شناخت کا حصہ بن چکے تھے۔
آج بھی اگر آپ کسی رکشہ ڈرائیور سے کہیں کہ آپ کو “شاہراہِ قائداعظم” لے چلے تو وہ ایک لمحے کے لیے سوچ سکتا ہے، پھر فوراً سمجھے گا کہ آپ مال روڈ کی بات کر رہے ہیں۔ “فاطمہ جناح روڈ” سن کر بہت سے لوگ اب بھی ذہنی طور پر کوئینز روڈ ہی تصور کرتے ہیں۔ “مولانا ظفر علی خان چوک” کا ذکر ہو تو جواب میں فوراً “لکشمی چوک” سننے کو ملتا ہے۔ شہر وہ سب یاد رکھتا ہے جسے سرکاری طور پر بھلانے کی کوشش کی گئی۔
اس کی سب سے نمایاں مثال مال روڈ ہے جسے سرکاری طور پر شاہراہِ قائداعظم کا نام دیا گیا۔ برطانوی دور میں “دی مال” ایک شاندار مرکزی شاہراہ ہوتی تھی جس کے اطراف انتظامی عمارتیں، تعلیمی ادارے اور اشرافیہ کے کلب قائم ہوتے تھے۔ لاہور کی مال روڈ نوآبادیاتی پنجاب کا دل سمجھی جاتی تھی جہاں گورنمنٹ کالج، پنجاب یونیورسٹی، لاہور ہائی کورٹ، ایچی سن کالج اور لارنس گارڈنز جیسے اہم مقامات واقع تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ “مال” کا لفظ اپنی نوآبادیاتی حیثیت سے نکل کر لاہور کی تہذیبی شناخت بن گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی لاہوری اسے مال روڈ ہی کہتے ہیں کیونکہ اس نام میں تاریخ، وقار اور یادوں کی وہ خوشبو موجود ہے جو سرکاری نام کبھی حاصل نہ کر سکا۔
اسی طرح جیل روڈ بھی اپنی اصل شناخت برقرار رکھے ہوئے ہے، حالانکہ اس کے مختلف حصوں کے نام قومی شخصیات کے نام پر رکھنے کی کوششیں کی گئیں۔ یہ سڑک لاہور سینٹرل جیل کی طرف جاتی تھی، اسی لیے اسے جیل روڈ کہا جاتا تھا۔ ایسے عملی اور جغرافیائی نام عوامی حافظے میں زیادہ دیرپا ثابت ہوتے ہیں۔ یہی معاملہ ریلوے روڈ، نکلسن روڈ اور ایبٹ روڈ کے ساتھ بھی ہوا، جو سیاسی دباؤ کے باوجود آج تک اپنی اصل شناخت کے ساتھ زندہ ہیں۔
کوئینز روڈ، جسے اب فاطمہ جناح روڈ کہا جاتا ہے، برطانوی دور میں شاہی خاندان کے اعزاز میں نامزد کی گئی تھی۔ مگر کاروباری مراکز، پرانے رہائشی اور ٹرانسپورٹ ورکرز آج بھی اسے کوئینز روڈ ہی کہتے ہیں۔ میکلوڈ روڈ، جسے مولانا ظفر علی خان روڈ کا نام دیا گیا، تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کے نزدیک اب بھی میکلوڈ روڈ ہی ہے کیونکہ کاروباری حافظہ سیاسی علامتوں سے زیادہ مضبوط ثابت ہوا۔ برینڈرتھ روڈ کو اگرچہ نشتر روڈ کا نام دیا گیا مگر پرانے لاہوری آج بھی اس کی اصل شناخت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
ٹیمپل روڈ ایک اور دلچسپ مثال ہے۔ تقسیم سے پہلے اس علاقے میں موجود ہندو مندروں کی وجہ سے اس سڑک کا نام ٹیمپل روڈ رکھا گیا تھا۔ بعد ازاں اسے حامد نظامی کے نام سے موسوم کیا گیا، مگر لوگ آج بھی اسے ٹیمپل روڈ کہتے ہیں کیونکہ ان کے لیے یہ نام نظریے سے زیادہ تاریخی جغرافیے کی نمائندگی کرتا ہے۔ اسی طرح ڈیوس روڈ کو سر آغا خان روڈ کا نام دیا گیا، مگر ہوٹلوں، دفاتر اور پرانے رہائشیوں کی گفتگو میں آج بھی “ڈیوس روڈ” ہی زندہ ہے۔
لکشمی چوک شاید سب سے زیادہ جذباتی مثال ہے۔ اس علاقے کا نام تقسیم سے پہلے ہندو تاجروں کی موجودگی کے باعث دیوی لکشمی کے نام پر رکھا گیا تھا۔ بعد میں یہی مقام لاہور کی تھیٹر ثقافت، کھانوں اور ادبی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا۔ حکومت نے اس کا نام مولانا ظفر علی خان چوک رکھنے کی کوشش کی، مگر عوامی زبان میں یہ تبدیلی تقریباً ناکام رہی۔ آج “لکشمی چوک” سن کر کسی عام لاہوری کے ذہن میں مذہب نہیں بلکہ پرانا لاہور، کھانے، تھیٹر اور ثقافتی یادیں آتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نام زندہ رہا۔
کرشن نگر، جسے بعد میں اسلام پورہ کہا گیا، بھی اسی تہذیبی مزاحمت کی مثال ہے۔ تقسیم سے پہلے یہ علاقہ ہندو آبادی اور مذہبی شناخت سے وابستہ تھا، مگر 1947 کے بعد مہاجرین یہاں آباد ہوئے۔ اس کے باوجود کئی دہائیوں تک پرانی نسلیں اسے کرشن نگر ہی کہتی رہیں۔ دھرم پورہ کا نام بدل کر مصطفی آباد رکھا گیا، مگر ٹرانسپورٹ کنڈکٹر، دکاندار اور مقامی رہائشی آج بھی اسے دھرم پورہ کہتے ہیں کیونکہ پرانا نام ان کی جغرافیائی شناخت کا حصہ بن چکا ہے۔ سنت نگر کو “سنت نگر” سے بدلنے کی کوشش بھی عوامی سطح پر مکمل کامیاب نہ ہو سکی۔
لاہور کے کئی دوسرے نام بھی اپنی تہذیبی پرتیں محفوظ کیے ہوئے ہیں۔ انارکلی آج بھی مغل داستانوں کی یاد دلاتی ہے، چاہے مورخین اس کردار کی تاریخی حیثیت پر اختلاف کرتے رہیں۔ موچی گیٹ کے بارے میں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ “موچی” یعنی جوتے بنانے والوں سے منسوب ہے جبکہ کچھ اسے “موتی” سے جوڑتے ہیں۔ بھاٹی گیٹ راجپوت بھٹی قبیلے کی یاد دلاتا ہے۔ شاہ عالمی مغل شہزادے شاہ عالم کے نام کی نشانی ہے جبکہ ٹیکسالی گیٹ مغل دور کی شاہی ٹکسال کی یادگار ہے۔ اچھرہ کی تاریخ تو مغل دور سے بھی پہلے کی سمجھی جاتی ہے اور اسے قدیم پنجابی تہذیب کی باقیات سے جوڑا جاتا ہے۔
لاہور کے شہری شعور میں نوآبادیاتی دور کے کئی نام آج بھی رچے بسے ہیں۔ نکلسن روڈ برطانوی فوجی بریگیڈیئر جان نکلسن کے نام پر ہے۔ ایبٹ روڈ غالباً کسی نوآبادیاتی منتظم سے منسوب ہے۔ کوپر روڈ، ایمپریس روڈ، مونٹگمری روڈ اور ایگرٹن روڈ بھی برطانوی دور کی انتظامی تاریخ کے آثار ہیں۔ اگرچہ بعض سرکاری ریکارڈوں میں ان کے نام تبدیل کیے گئے، مگر عوامی زبان میں ان کی اصل شناخت آج بھی قائم ہے کیونکہ یہ نام کاروباری پتوں، جائیداد کے کاغذات اور سماجی حافظے کا حصہ بن چکے ہیں۔
ان تمام ناکام نام تبدیلی مہمات سے ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے کہ شہروں کو بیوروکریسی نہیں بلکہ جذبات یاد رکھتے ہیں۔ حکومتیں ناموں کو نظریاتی زاویے سے دیکھتی ہیں جبکہ عوام انہیں ثقافتی تجربے کے طور پر محسوس کرتے ہیں۔ ریاست کے لیے ناموں کی تبدیلی نوآبادیاتی ورثے سے علیحدگی، اسلامائزیشن یا سیاسی علامت سازی کا حصہ تھی، مگر لاہوریوں کے لیے یہ نام مانوسیت، تسلسل اور یادداشت کا استعارہ تھے۔ لکشمی چوک کا چائے والا اس نام کو مذہبی حوالے سے نہیں دیکھتا، اور مال روڈ پر چلنے والا طالب علم برطانوی سامراج کے بارے میں نہیں سوچتا۔ یہ نام اپنی اصل حیثیت سے آگے بڑھ کر خود لاہور کی ثقافتی علامت بن چکے ہیں۔
اسی لیے نام بدلنے کی مہمات کو ہمیشہ خاموش مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ لوگوں نے نہ احتجاج کیے اور نہ سیاسی تحریکیں چلائیں؛ انہوں نے صرف نئے نام قبول نہیں کیے۔ زبان خود مزاحمت بن گئی۔ پرانے نام گفتگو، ٹرانسپورٹ روٹس، اخباروں کے اشتہارات، شادی کارڈز اور کاروباری شناختوں میں زندہ رہے۔ یہاں تک کہ کئی سرکاری اہلکار بھی غیر رسمی گفتگو میں انہی پرانے ناموں کا استعمال کرتے رہے کیونکہ عوام انہی کو سمجھتے تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ لاہور کبھی صرف ایک تہذیب کا شہر نہیں رہا۔ یہ بیک وقت مغل، سکھ، ہندو، نوآبادیاتی اور پاکستانی تاریخ کا امین ہے۔ ہر دور نے اس شہر پر اپنی مہر ثبت کی اور ان مہروں کی سب سے مضبوط شکل اس کے نام ہیں۔ انہیں مکمل طور پر مٹانا لاہور کی اپنی تاریخی گہرائی کو ختم کرنے کے مترادف ہوگا۔ شاید اسی لیے آج مورخین، ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور شہری منصوبہ ساز اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تاریخی ناموں کو محفوظ رکھنا پاکستانی شناخت کے خلاف نہیں بلکہ ثقافتی اعتماد کی علامت ہے۔ مضبوط تہذیبیں تاریخ سے خوفزدہ نہیں ہوتیں، بلکہ اسے سنبھال کر رکھتی ہیں۔ لاہور کی اصل عظمت بھی اسی میں ہے کہ وہ اپنی تمام تہذیبی پرتوں کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔
آخرکار، لاہور کی سڑکوں اور محلوں کی کہانی صرف سائن بورڈز کی کہانی نہیں بلکہ یادداشت اور اقتدار کے درمیان کشمکش کی داستان ہے۔ حکومتوں نے نام بدلے، نئے بورڈ لگائے اور سرکاری نوٹیفکیشن جاری کیے، مگر عام لاہوری خاموشی سے اپنی وراثتی تاریخ کی زبان بولتے رہے۔ شہر نے خود کو فراموش نہیں ہونے دیا۔
شاید یہی وجہ ہے کہ لاہور آج بھی لاہور ہے — ایک ایسا شہر جس کی گلیوں میں ہر گزرنے والی تہذیب کی بازگشت اب بھی سنائی دیتی ہے۔
حکومت ہار گئی، لاہور جیت گیا نام بدلنے کی سیاست، لاہور کی خاموش مزاحمت


