مکہ مکرمہ:مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیتے ہوئے امام مسجد نبوی ﷺ عبدالرحمان الحذیفی نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ جھوٹ سے بچیں اور سچائی کو اختیار کریں، کسی کو تکلیف نہ پہنچائیں اور عبادات میں عاجزی اختیار کریں۔
میدانِ عرفات میں حج کے رکنِ اعظم وقوفِ عرفہ کی ادائیگی کے موقع پر روح پرور مناظر دیکھنے میں آئے، جہاں دنیا بھر سے لاکھوں فرزندانِ اسلام نے خشوع و خضوع کے ساتھ عبادات، دعاؤں اور استغفار میں وقت گزار رہے ہیں۔
Full Hajj Khutbah 1447/2026: Khateeb Sheikh Ali Al Hudaify pic.twitter.com/rZ304q3GcG
— The Holy Mosques (@theholymosques) May 26, 2026
مسجد نمرہ میں امامِ حرم شیخ علی عبد الرحمان نے خطبۂ حج دیتے ہوئے امتِ مسلمہ کو تقویٰ، صبر، اخلاص اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت اختیار کرنے کی تلقین کی۔
خطبۂ حج کا آغاز اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا سے کیا گیا۔ امامِ حرم نے کہا کہ تمام تعریفیں اللہ رب العزت کے لیے ہیں جو پوری کائنات کا مالک اور حقیقی حاکم ہے۔ انہوں نے حجاج کرام اور امتِ مسلمہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو کیونکہ اسی میں دنیا و آخرت کی کامیابی اور نجات پوشیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیامت کا دن انتہائی ہولناک ہوگا، اللہ کے خوف سے لوگ لرز اٹھیں گے، اس لیے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی چھوڑ کر اس کی اطاعت اختیار کی جائے۔
امامِ حرم نے اپنے خطبے میں کہا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات برحق ہے اور اسی نے قیامت کا دن مقرر کر رکھا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سب سے بڑی کامیابی آخرت کی کامیابی ہے جبکہ اللہ کے سوا کوئی ہستی نفع یا نقصان پہنچانے کی طاقت نہیں رکھتی۔ انہوں نے شرک کو سب سے بڑا ظلم قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسان کا رب ایک ہے، لہٰذا اسی کی بندگی اور فرمانبرداری اختیار کی جائے۔
خطبے میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے، صبر، تقویٰ اور نیکی کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ امامِ حرم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کو بے حساب عطا فرماتا ہے اور وہی اپنے بندوں کا دفاع کرتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اللہ کی نافرمانی کرنے والے گمراہی میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور جن بستیوں نے انبیائے کرامؑ کی نافرمانی کی وہ تباہ و برباد کردی گئیں۔
امام عبدالرحمان الحذیفی نے کہا کہ بیت اللہ اللہ رب العزت کا مقدس گھر ہے اور اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ کو اسی کی بندگی کیلئے لوگوں کو بلانے کا حکم دیا تھا تاکہ وہ اللہ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا بھر سے لاکھوں حجاج اللہ تعالیٰ سے معافی اور مغفرت طلب کرنے کیلئے میدانِ عرفات میں جمع ہیں۔
خطبۂ حج میں واضح کیا گیا کہ حج عبادت، اتحاد اور اخوت کا عظیم ذریعہ ہے، اس میں سیاست، جھگڑا یا فساد کی کوئی گنجائش نہیں۔ امامِ حرم نے کہا کہ حج مسلمانوں کے درمیان اتفاق و اتحاد پیدا کرتا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے حج کا مکمل طریقہ امت کو سکھا دیا ہے، اس لیے ہر مسلمان کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق مناسک ادا کرنے چاہئیں۔
انہوں نے حجاج کرام کو ہدایت کی کہ جھوٹ سے بچیں اور سچائی کو اختیار کریں، کسی کو تکلیف نہ پہنچائیں اور عبادات میں عاجزی اختیار کریں۔ خطبے میں مناسکِ حج کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا گیا کہ عرفات میں ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ قصر ادا کی جاتی ہیں، غروبِ آفتاب کے بعد حجاج مزدلفہ روانہ ہوں، وہاں رات گزارنے کے بعد منیٰ جائیں اور شیطان کو کنکریاں ماریں۔
امامِ حرم نے کہا کہ ایامِ تشریق کے دوران جمرات کو سات، سات کنکریاں ماری جائیں گی اور 13 ذوالحجہ تک رمی کا سلسلہ جاری رہے گا، تاہم اگر کوئی حاجی 12 ذوالحجہ کو واپس چلا جائے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ حج کے دوران جلد بازی سے گریز کیا جائے اور نظم و ضبط کا خیال رکھا جائے۔
خطبے کے اختتام پر امامِ حرم نے نماز قائم کرنے، زکوٰۃ ادا کرنے اور ان مبارک ایام میں کثرت سے دعا و استغفار کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ سب سے بہترین دعا دعائے عرفہ ہے۔ انہوں نے امتِ مسلمہ کیلئے خصوصی دعائیں کرتے ہوئے کہا کہ اے اللہ ہماری دنیا اور آخرت بہتر فرما، تمام حجاج کرام کی دعائیں قبول فرما اور انہیں سلامتی کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس پہنچا۔

