واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے طبی معائنے کے لیے والٹر ریڈ نیشنل ملٹری میڈیکل سینٹر کے متوقع دورے نے ایک بار پھر ان کی صحت سے متعلق قیاس آرائیوں کو جنم دے دیا ہے۔ یہ صدر ٹرمپ کا گزشتہ 13 ماہ کے دوران تیسرا "سالانہ” طبی معائنہ ہوگا، جس پر طبی ماہرین نے وائٹ ہاؤس کی جانب سے شفافیت کی کمی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
سی این این کے طبی تجزیہ کار اور سابقہ نائب صدر ڈک چینی کے ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹر جوناتھن رینر نے ‘دی واشنگٹن پوسٹ’ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وائٹ ہاؤس صدر کی صحت کے معاملات میں حقائق چھپا رہا ہے۔ ڈاکٹر رینر کے مطابق، "صدر تقریباً 80 سال کے ہو چکے ہیں، یہ ایک حقیقت ہے کہ عمر کے اس حصے میں طبی مسائل پیدا ہوتے ہیں، لیکن وائٹ ہاؤس ان کا اعتراف کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔”
صدر ٹرمپ کی صحت کے حوالے سے چند اہم نکات پر بحث جاری ہے:
سوجے ہوئے ٹخنے (Cankles): طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹخنے سوجنے کی وجہ ‘کرونک وینس انسیفیشنسی’ بتائی گئی ہے، لیکن ڈاکٹر رینر کے مطابق اگر یہ علامت اچانک ظاہر ہوئی ہے تو اس کی گہرائی سے جانچ ضروری ہے تاکہ دل کے کسی سنگین مرض (جیسے ہارٹ فیلیئر) کے خطرے کو مسترد کیا جا سکے۔
ہاتھوں پر نشانات: وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ہاتھوں پر زخموں کے نشانات ‘ایسپرین’ کے استعمال اور کثرت سے ہاتھ ملانے کی وجہ سے ہیں، تاہم ڈاکٹر رینر نے 325 ملی گرام روزانہ کی مقدار کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے شدید خون بہنے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
نیند اور ذہنی صحت: صدر ٹرمپ کے میٹنگز کے دوران سو جانے کے واقعات پر بھی طبی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے، جس کے بارے میں ڈاکٹر رینر کا کہنا ہے کہ یہ ‘سلیپ ایپنیا’ (Sleep Apnea) کا باعث ہو سکتا ہے جس کا تفصیلی معائنہ ضروری ہے۔
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے گزشتہ سال اکتوبر میں والٹر ریڈ کا دورہ کیا تھا جہاں ہونے والے اسکین (ایم آر آئی یا سی ٹی اسکین) کے بارے میں تضادات پائے گئے۔ صدر نے اسے "پرفیکٹ” قرار دیا تھا لیکن وہ یہ واضح کرنے میں ناکام رہے کہ یہ اسکین جسم کے کس حصے کا تھا اور کیوں کیا گیا۔ اس کے علاوہ، رواں سال ان کے تین ڈینٹل (دندان سازی) کے دورے بھی ہوئے ہیں جن کی نوعیت کے بارے میں وائٹ ہاؤس نے کوئی واضح تفصیلات نہیں دی ہیں۔
صدر ٹرمپ اپنی صحت کے بارے میں تواتر سے دعوے کرتے رہے ہیں کہ انہوں نے تین علمی صلاحیتوں (Cognitive) کے ٹیسٹ پاس کیے ہیں، تاہم ناقدین اور طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ ایک صدر کی صحت قومی سلامتی کا معاملہ ہے، جس میں ابہام کے بجائے مکمل شفافیت ہونی چاہیے۔
صدر ٹرمپ کا 13 ماہ میں تیسرا طبی معائنہ، ماہرین تشویش میں مبتلا: وائٹ ہاؤس کی خاموشی پر سوالات

