پشاور:پشاور ہائیکورٹ میں اپوزیشن اتحاد کے رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کو غیر آئینی قرار دیا اور اس اقدام کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی نے وفاقی حکومت پر غیر آئینی اقدامات کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ پشاور ہائیکورٹ اس لیے آئے ہیں کیونکہ ’چار کروڑ عوام کی حکومت ختم کی گئی ہے۔‘
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ یہ خاموش رہنے کا وقت نہیں بلکہ عوام کے حقِ حکمرانی کے تحفظ کا وقت ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ تمام سیاسی قوتیں مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں اور ایسی قومی پالیسی تشکیل دی جائے جس کے تحت تمام ادارے اپنے آئینی دائرہ کار میں کام کریں۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان پر معاہدے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور کہا کہ ماضی میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے ساتھ بھی اسی نوعیت کا رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
اچکزئی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ اور متعدد منتخب نمائندوں کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں کیونکہ یہ عوام اور منتخب اراکین کا آئینی حق ہے۔ انھوں نے کہا کہ صوبے کے معدنی وسائل پر پہلا حق یہاں کے عوام کا ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کو وطن کے مفاد میں متحد ہونا چاہیے۔
بعد ازاں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں سے رابطے جاری ہیں اور جلد آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے گی۔ ان کے مطابق اسمبلیوں سے استعفوں کا آپشن بھی زیر غور ہے۔ انھوں نے کہا کہ مذاکرات کے لیے اپوزیشن نے اپنے مطالبات سامنے رکھ دیے ہیں جن میں آئین کی بالادستی، متنازع آئینی ترامیم کی واپسی، پارلیمنٹ کو اختیار کا سرچشمہ تسلیم کرنا اور شفاف انتخابات کے لیے آزاد کمیشن کا قیام شامل ہے۔
اس موقع پر سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے الزام عائد کیا کہ ملک میں لاقانونیت عروج پر ہے اور موجودہ نظام ناکام ہو چکا ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ حکمران عوام کے مینڈیٹ اور احتجاج کے حق کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں غربت میں اضافہ ہوا ہے، تاہم اپوزیشن جماعتیں سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گی۔
اختر مینگل نے بھی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو عناصر خود کو آئین کا محافظ قرار دیتے ہیں، انھوں نے ہی آئین کو نقصان پہنچایا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ گورنر راج نافذ کر کے ایک صوبے پر دہشت گردی کا الزام عائد کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں طویل عرصے سے جاری سکیورٹی آپریشنز کے باوجود حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہوئے ہیں۔
اختر مینگل نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے منتخب وزیراعلیٰ، سپیکر اور بعض وزرا کے بارے میں معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ ان کے بقول اس طرز کا نظام زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف اپوزیشن اتحادکا پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرنیکا اعلان

