اسلام آباد :ڈی جیNCCIAعلی ناصر رضوی نے ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے واضح اعلان کیا کہ کسی بھی ماں، بہن یا بیٹی کی عزت کے خلاف کسی بھی الیکٹرانک پلیٹ فارم پر مواد شائع کرنے، بلیک میلنگ کرنے یا مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر اپ لوڈ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی شخص محض موبائل فون اٹھا کر کچھ لکھنے اور اسے سوشل میڈیا یا کسی دوسرے پلیٹ فارم پر اپ لوڈ کرنے کی آزادی کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ عزت سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور کسی کو بھی خواتین کی تضحیک یا بلیک میلنگ کی اجازت نہیں دی جائے گی
جس اعتماد اور امید کے ساتھ اپنی شکایات ہمارے ساتھ شیئر کرتے ہیں، اس اعتماد کو برقرار رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔
ڈی جی این سی سی آئی اے سید علی ناصر رضوی#DGNCCIA #NasirRizvi #CyberCrime https://t.co/siR7numwTz
— NCCIA (@NCCIAOFFICIAL) October 16, 2026
حکام کے مطابق این سی سی آئی اے اور سائبر پولیس نے اس معاملے پر سخت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے اور ایسی سرگرمیوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریاست مخالف سرگرمیاں اور پروپیگنڈا بھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔ کسی بھی شخص کو بغیر کسی بنیاد یا ثبوت کے ریاست یا اس کے اداروں کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ان کا کہنا تھا کہ ریاست اور اس کے اداروں کے خلاف غلط معلومات یا منفی پروپیگنڈا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔این سی سی آئی اے حکام نے کہا کہ غیر قانونی کال سینٹرز، مالی فراڈ، رومانوی تعلقات کے ذریعے دھوکا دہی اور فحش مواد سے متعلق غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث مراکز کو کام نہیں کرنے دیا جائے گا۔
ان کے مطابق ایسے کال سینٹرز پاکستان میں مقیم شہریوں اور غیر ملکیوں کو مختلف طریقوں سے مالی نقصان پہنچاتے ہیں اور ملک کی معیشت اور ساکھ کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ وزیر داخلہ نے این سی سی آئی اے کی ٹیم کو ذمہ داریاں سونپتے وقت تین نکات واضح کیے تھے: ریاست مخالف منفی پروپیگنڈے کی روک تھام، خواتین کی عزت کے خلاف ڈیجیٹل مواد پر سخت کارروائی اور غیر قانونی فراڈ کرنے والے کال سینٹرز کا خاتمہ۔انہوں نے کہا کہ ان تینوں اہداف پر گزشتہ 26 روز سے دن رات کام جاری ہے۔ این سی سی آئی اے کی ذمہ داریاں عام دفتری اوقات تک محدود نہیں بلکہ یہ چوبیس گھنٹے جاری رہنے والا کام ہے۔

