کوئٹہ:
بلوچستان حکومت کے مالی سال 2024-25 کی آڈٹ رپورٹ میں کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سرکاری محکموں کی جانب سے مالی قواعد و ضوابط کی مبینہ خلاف ورزیوں کے نتیجے میں قومی خزانے کو 37 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا گیا ہے۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مختلف ترقیاتی منصوبوں، فنڈز کے بے جا استعمال اور ریکارڈ کی عدم فراہمی کے باعث اتنی بڑی رقم کی بے ضابطگیاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ متعلقہ اداروں کی جانب سے فنڈز کے بروئے کار لانے اور شفافیت کے تقاضوں کو نظر انداز کرنے پر آڈٹ حکام کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔سیاسی و سماجی حلقوں نے اس رپورٹ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان سنگین مالی بے ضابطگیوں میں ملوث ذمہ داران کے خلاف فی الفور سخت قانونی کارروائی کی جائے اور آڈٹ رپورٹ کے تمام پہلوؤں کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے پیش کر کے شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جائے۔

