اسلام آباد: اسلام آباد کے پمز اسپتال کے چلڈرن وارڈ کی نرسری میں صبح 7 بجے اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں نرسری میں موجود 15 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق نرسری میں آگ ایئرکنڈیشن کے کمپریسر کے پھٹنے کے باعث لگی۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور آگ بجھانے کی کارروائی شروع کردی۔
پمز ہسپتال کے بچوں وارڈ نرسری میں آگ لگ گئی،آگ صبح 6 بجے کےقریب لگ بھگ اے سی کمپریسر پھٹنے کیوجہ سے لگی،14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے،
واقعہ کی انکوائری کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل
انکوائری کمیٹی آگ لگنے کی وجوہات کا تعین کرے گی pic.twitter.com/wXow3k9m33— Fahim Akhtar Malik (@writetofahim) August 26, 2026
اسپتال ذرائع کے مطابق آتشزدگی کے وقت نرسری میں 15 نومولود بچے موجود تھے، تاہم ایک لیڈی ڈاکٹر صرف ایک بچے کو بحفاظت نکالنے میں کامیاب ہوسکی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے نتیجے میں متعدد بچے جھلس کر شدید زخمی بھی ہوئے، جنہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
پمز کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر عمران سکندر نے بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آگ پمز ہسپتال کی ایم سی ایچ وارڈ کے تیسرے فلور پر لگی جس میں مجموعی طور پر 14 بچے مکمل طور پر جھلس گئے ہیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق نرسری میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا ہے، جبکہ کولنگ کا عمل جاری ہے۔ آتشزدگی کے وقت چلڈرن وارڈ میں بڑی تعداد میں بچے زیر علاج تھے۔اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں، 6 فائر بریگیڈ گاڑیوں اور 4 ایمبولینسز نے امدادی کارروائی میں حصہ لیا۔ آگ پر قابو پانے کے بعد متاثرہ بچوں کو فوری طور پر آئی سی یو منتقل کردیا گیا۔ ضلعی انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی، جو آگ لگنے کی وجوہات کا تعین کرے گی۔
وزیراعظم شہبازشریف کا اظہار افسوس انکوائری کاحکم
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے اندوناک واقعہ میں 14 نومولود جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور دِلی افسوس کا اظہار کیا. وزیراعظم نے معصوم بچوں کے لواحقین سے دلی اظہار تعزیت کیا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آتشزدگی کے افسوسناک واقعہ کا نوٹس لے لیا اور حکام کو فوری تحقیقات کی ہدایات دی۔
وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ بچوں کے ساتھ ایسی صورتحال ناقابلِ تلافی ہے۔ واقعہ کے محرکات کا تفصیلی جائزہ لیا جاۓ اور ذمہ دران کا تعین کیا جاۓ اور سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے. اس اندوہ ناک واقعے پر دل رنجیدہ ہے
والدین کے اس دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ اللہ تعالیٰ لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائیں۔

