تہران:عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے لیے ایک عارضی راہداری کا اعلان جلد کیا جا سکتا ہے۔
بدر البوسعیدی نے ایکس پر ایک بیان میں لکھا کہ ’تہران میں اپنے ساتھی عباس عراقچی کے ساتھ تعمیری مذاکرات ہوئے۔‘
Constructive dialogue in Tehran with my colleague Dr @Araghchi. I am hopeful we will soon announce a temporary corridor for the Strait of Hormuz and practical arrangements to restore safe navigation. Future management of the Strait and a permanent solution will follow in due… pic.twitter.com/UBkKE2j4SL
— Badr Albusaidi – بدر البوسعيدي (@badralbusaidi) August 25, 2026
ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’مجھے امید ہے ہم جلد آبنائے ہرمز کے لیے ایک عارضی راہداری اور محفوظ بحری آمدورفت کی بحالی کے لیے عملی انتظامات کا اعلان کریں گے۔‘
عمان کے وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ’آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام اور مستقل حل پر بعد میں، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے آرٹیکل 5 کے مطابق پیش رفت کی جائے گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مذاکرات امن و تعاون، استحکام اور بحری آمدورفت کی آزادی کے فروغ کے لیے کیے جائیں گے۔‘
دوسری جانب عباس عراقچی نے بھی منگل کی شب ایکس پر پاکستان کے فیلڈ مارشل اور عمان کے وزیر خارجہ سے ملاقاتوں کے بعد ایک مختصر بیان جاری کیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’امن اور استحکام کے لیے ایران کا عزم ہمسایہ ممالک کے ساتھ مستقل مزاج سفارت کاری سے ہم آہنگ ہے۔‘
Iran’s commitment to peace and stability is matched by steadfast diplomacy with our neighbors. In talks with Pakistani and Omani guests, regional solutions were stressed.
Proposed framework for new corridor, joint mine-clearing, and future management of Hormuz is case in point. pic.twitter.com/5VYzRp1DzY
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) August 25, 2026
عباس عراقچی نے ان ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’پاکستانی اور عمانی مہمانوں کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں علاقائی حل پر زور دیا گیا۔ نئی راہداری کے لیے تجویز کردہ فریم ورک، مشترکہ بارودی سرنگوں کی صفائی، اور آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام کی تجویز اس کی واضح مثال ہے۔‘
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ پیر کو ایران کا ایک روزہ دورہ کیا تھا جہاں ان کی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت اعلیٰ ایرانی عہدیداروں سے ملاقاتیں ہوئیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے بعد میں ایرانی صدر سے ملاقات کو ’انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز‘ قرار دیا تھا۔

