بلوچستان رحمت اللہ بلوچ بیوروچیف بے نقاب نیوز)
صوبائی امیر جماعت اسلامی بلوچستان اور رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے پسنی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کا اصل مسئلہ اسلام آباد ہے۔ وفاق اور اسلام آباد کی وجہ سے آج بلوچستان قبرستان بن چکا ہے۔ بلوچستان کی صوبائی اسمبلی مکمل طور پر بے بس ہے ۔ ہمیں جمہوری آزادی حاصل نہیں اور یہ لوگ بلوچستان کو صوبہ نہیں بلکہ ایک کالونی سمجھتے ہیں۔
بلوچستان اسمبلی میں میں نے صرف ضلع گوادر ہی نہیں بلکہ پورے بلوچستان کی ترجمانی کی ہے۔ بلوچستان میں جہاں کہیں بھی ظلم یا زیادتی ہوئی میں نے اسمبلی فلور پر اس کے خلاف آواز بلند کی اور اسی وجہ سے اسمبلی کا اسپیکر مجھے بارہا فلور سے باہر نکالتے رہا۔
میں بلوچستان کا واحد منتخب ایم پی اے ہوں جس کی رکنیت معطل کی گئی اور میرے خلاف اب تک تین ایف آئی آر درج کی گئی ہیں لیکن میں انہیں واضح طور پر بتانا چاہتا ہوں کہ میں پہلے بھی اپنے عوام کے ساتھ تھا اور آئندہ بھی ان کے ساتھ کھڑا رہوں گا۔ جو مسائل ہیں وہ عوام کے مسائل ہیں مجھ سے پہلے ضلع گوادر میں جو کرپشن اور اقربا پروری تھی وہ اب ایک حد تک ختم ہو چکی ہے۔ ضلع گوادر کے ماہی گیروں کے مسائل کو حل کرنے کی ہم نے بھرپور کوشش کی لیکن اس راہ میں ہمیں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
بلوچستان کی بیوروکریسی نے مجھے ایک سال تک نمائندہ تسلیم نہیں کیا اور مجھے پورا سال یہ منوانے میں لگا کہ میں ضلع گوادر کا منتخب نمائندہ ہوں۔ بلوچستان میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں، یہاں پارلیمنٹ بے بس ہے، منتخب نمائندے بے بس ہیں ۔ ان تمام مشکلات کے باوجود ہم نے گوادر کے عوام کی خدمت کی ہے اور ان کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ میں ضلع گوادر کے عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ جس امید اور محبت کے ساتھ آپ نے مجھے منتخب کیا، میں اس پر ضرور پورا اتروں گا اور کوشش کروں گا کہ ضلع گوادر میں تعلیم، صحت اور دیگر تمام بنیادی سہولیات فراہم کروں۔ ضلع گوادر کے ماہی گیروں کے تحفظ کے لیے میں پہلے بھی ان کے ساتھ تھا اور آئندہ بھی ان کے ساتھ رہوں گا۔


