لاہور/راولپنڈی:ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور گندم و آٹے کے مہنگے ہونے کے بعد نانبائیوں نے بھی روٹی اور نان کی قیمتوں میں ازخود اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔ جیو نیوز کے مطابق، روٹی کی قیمت میں 9 روپے اور نان کی قیمت میں 10 روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد اب روٹی 25 روپے اور نان 35 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔
نانبائی ایسوسی ایشنز کا کہنا ہے کہ 20 کلو آٹے کا تھیلا اب 2400 روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ ایل پی جی اور دیگر اخراجات نے تندور چلانا ناممکن بنا دیا ہے۔ نانبائیوں نے دو ٹوک الفاظ میں دھمکی دی ہے کہ اگر انہیں ان قیمتوں پر روٹی فروخت کرنے سے روکا گیا تو وہ اپنے تندور بند کر دیں گے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت یا تو انہیں سستا آٹا فراہم کرے یا پھر نئی قیمتوں کو تسلیم کرے۔
راولپنڈی میں صورتحال مزید سنگین ہے، جہاں نانبائی ایسوسی ایشن نے ڈپٹی کمشنر کو باقاعدہ خط لکھ کر اپنی مجبوریوں سے آگاہ کیا ہے۔ خط میں بتایا گیا ہے کہ:
آٹے کی قیمتوں میں آگ: فائن آٹے کی 80 کلو بوری کی قیمت دو ہفتوں میں 10,500 روپے سے بڑھ کر 12,300 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
ایل پی جی کی قیمت: سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ کے باعث ایل پی جی کا استعمال ناگزیر ہے، جو اب 550 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہی ہے، جبکہ کمرشل سلنڈر 18 ہزار سے بڑھ کر 22 ہزار روپے کا ہو گیا ہے۔
سرکاری آٹا: 10 کلو آٹے کا سرکاری تھیلا جو 885 روپے کا تھا، اب 1100 روپے کا کر دیا گیا ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق، ان حالات میں 14 روپے میں روٹی بیچنا ممکن نہیں، لہٰذا روٹی کی قیمت 25 روپے سے کم کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔
دوسری جانب ڈی جی فوڈ کا کہنا ہے کہ حکومت صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے اور توقع ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ گندم کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔ تاہم، شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر ریلیف فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ عام آدمی کی بنیادی ضرورت یعنی روٹی کی قیمت ان کی پہنچ سے باہر نہ ہو۔

