اسلام آباد :سینئر صحافی شہباز رانا نے ٹریبون میں شائع ہونے والی اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیاہے کہ حکومت نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی نجکاری کے تحت 14.2 ارب روپے مالیت کی 11 جائیدادیں، جن میں سات بیرون ملک واقع ہیں، نئے خریداروں کے حوالے کر دی ہیں۔ نجی خریدار اسلام آباد کو اپنی کاروباری سرگرمیوں کا نیا مرکز بنانے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان کی زیر صدارت ہونے والے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کے اجلاس میں نجکاری کمیشن کے سیکریٹری عثمان باجوہ نے یہ تفصیلات پیش کیں ۔ عثمان باجوہ کے مطابق نئے خریداروں کو منتقل کی جانے والی جائیدادوں کی مجموعی مالیت 14.2 ارب روپے ہے، جو 75 فیصد حصص کی خریداری کے بدلے حکومت کو ادا کیے گئے 10 ارب روپے سے تقریباً 4 ارب روپے زیادہ بنتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت نے پی آئی اے کے 100 فیصد حصص 55 ارب روپے نقد کے عوض فروخت کیے ہیں، تاہم فی الحال 75 فیصد حصص کی منتقلی مکمل ہو چکی ہے جبکہ باقی 25 فیصد حصص کی منتقلی اور مزید 45 ارب روپے کی ادائیگی کا مرحلہ ابھی باقی ہے۔نجکاری کمیشن کے مطابق حکومت نے 29 جون 2026 کو پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ کے 75 فیصد حصص کی منتقلی مکمل کر دی، جس کے بعد ایئرلائن کا انتظامی کنٹرول خریدار کے حوالے کر دیا گیا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ خریدار نے حکومت کو فروخت کی مد میں 10 ارب روپے ادا کیے جبکہ پی آئی اے میں 80 ارب روپے نئی ایکویٹی کی صورت میں شامل کیے گئے، تاکہ کمپنی کی مالی پوزیشن مستحکم ہو، فضائی بیڑے میں اضافہ اور جدید کاری کی جا سکے، روٹس کا نیٹ ورک وسیع کیا جائے، آپریشنل کارکردگی اور کسٹمر سروس بہتر بنائی جائے اور ایئرلائن کی طویل المدتی ترقی یقینی بنائی جا سکے۔
ڈیلی پاکستان کی رپورٹ کے مطابق نجکاری کمیشن کے مطابق فروخت کے معاہدے کے تحت پہلے مرحلے کے ایک سال کے اندر دوسرا مرحلہ مکمل کیا جائے گا، جس میں کنسورشیم مزید 45 ارب روپے پی آئی اے میں سرمایہ کاری کرے گا۔خریدار نے ضمنی معاہدے کے تحت پہلے مرحلے کے 12 ماہ کے اندر باقی 25 فیصد حصص خریدنے کے لیے کال آپشن بھی استعمال کرنے کا ارادہ ظاہر کر دیا ہے، جس کے تحت حکومت پاکستان کو مزید 45 ارب روپے ادا کیے جائیں گے۔
عثمان باجوہ نے بتایا کہ پی آئی اے کی مجموعی 44 جائیدادوں میں سے 11، جن کی مالیت 14.2 ارب روپے ہے، نجکاری معاہدے کے تحت نئے مالکان کو منتقل کی گئی ہیں۔ باقی 33 جائیدادیں پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کے پاس برقرار رہیں گی۔
نجکاری کمیشن کے مطابق راولپنڈی میں مال روڈ پر واقع پی آئی اے بکنگ آفس، جس کی مالیت 2.3 ارب روپے ہے، نئے مالکان کے حوالے کر دیا گیا۔ پشاور میں مال، ارباب روڈ پر واقع پی آئی اے سیلز آفس کی مالیت 5.1 ارب روپے مقرر کی گئی۔ اسلام آباد کے بلیو ایریا میں جناح ایونیو پر واقع پی آئی اے سیلز آفس کی مالیت 2.4 ارب روپے لگائی گئی، جبکہ کوئٹہ میں شاہراہ حالی، کینٹ پر واقع پی آئی اے سیلز آفس بلڈنگ کی مالیت 83 کروڑ 74 لاکھ روپے مقرر کی گئی۔
بیرونِ ملک جائیدادیں
کمیشن نے کمیٹی کو بتایا کہ بھارت میں واقع پی آئی اے کی دو جائیدادیں بھی نئے خریداروں کو منتقل کی گئی ہیں۔ ان میں ممبئی کے علاقے کف پریڈ میں جولی میکر تھری کی تیسری منزل پر واقع فلیٹ نمبر 32 شامل ہے، جس کی مالیت 11 کروڑ 25 لاکھ بھارتی روپے ہے۔ اس کے علاوہ نئی دہلی میں نرائن منزل کی پانچویں اور چھٹی منزل بھی اس معاہدے کا حصہ ہیں، جن کی مالیت 12 کروڑ 19 لاکھ 20 ہزار بھارتی روپے مقرر کی گئی ہے۔ نیدرلینڈز کے شہر ایمسٹرڈیم میں واقع تین جائیدادیں بھی معاہدے میں شامل ہیں، لیڈس اسٹریٹ 17، 1017 این ٹی ایمسٹرڈیم کی مالیت 21 لاکھ یورو، کوننگس وارن 109، 1391 ایمسٹرڈیم کی مالیت 7 لاکھ 50 ہزار یورو، اور وین نائین روڈے ویگ 835، 1082 جے ایم ایمسٹرڈیم کی مالیت 5 لاکھ 83 ہزار یورو مقرر کی گئی ہے۔کمیشن کے مطابق ایک جائیداد ازبکستان کے شہر تاشقند میں واقع ہے جس کی مالیت 4 ارب ازبک سوم ہے، جبکہ ایک جائیداد امریکا کے شہر نیویارک کے علاقے اسکارس ڈیل میں 55 سیکسن ووڈز روڈ پر واقع ہے، جس کی مالیت 17 لاکھ امریکی ڈالر بتائی گئی ہے۔
پی آئی اے کے نئے مالکان کو 14.2 ارب روپے مالیت کی 11 جائیدادیں منتقل کر دی گئیں

