نیویارک :2026 فیفا ورلڈ کپ نے نہ صرف کھیل کے میدان میں تاریخ رقم کی ہے بلکہ ڈیجیٹل براڈکاسٹنگ کی دنیا میں بھی نئے سنگ میل عبور کر لیے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، 2030 اور 2034 کے ورلڈ کپس کے لیے امریکی نشریاتی حقوق کی جنگ اب اپنے عروج پر ہے، جہاں نیٹ فلکس، ڈزنی اور یوٹیوب جیسے بڑے اسٹریمنگ پلیٹ فارمز نے مشترکہ طور پر 2 ارب ڈالر تک کی بولیاں لگائی ہیں۔
تاہم اب اگلی دو دہائیوں (2030 اور 2034) کے لیے ڈیجیٹل حقوق کی قدر میں حیران کن اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اسٹریمنگ کمپنیوں کی جانب سے 2 ارب ڈالر تک کی پیشکش اس بات کا ثبوت ہے کہ اب روایتی ٹی وی کے بجائے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز ہی فٹ بال کے سب سے بڑے مرکز بن چکے ہیں۔
ورلڈ کپ کے موجودہ سیزن میں نیٹ فلکس، ڈزنی اور یوٹیوب پر میچز دیکھنے والے ناظرین کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق:
یوٹیوب (YouTube): اس ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ ناظرین (Topper) یوٹیوب پر دیکھے گئے، جہاں ہائی لائٹس اور لائیو اسٹریمنگ لنکس کے ذریعے کروڑوں شائقین نے میچز انجوائے کیے۔
نیٹ فلکس اور ڈزنی: ان پلیٹ فارمز نے نہ صرف میچز بلکہ خصوصی ڈاکومینٹریز اور بیہائنڈ دی سین (Behind the scenes) مواد کے ذریعے لاکھوں نئے سبسکرائبرز حاصل کیے۔
کون سا پلیٹ فارم سب سے آگے؟
ویور شپ کے اعتبار سے اس وقت یوٹیوب (YouTube) ٹاپ پر موجود ہے۔ اس کی بڑی وجہ پلیٹ فارم کی رسائی، فری کنٹینٹ اور ہائی لائٹس کی فوری دستیابی ہے۔ یوٹیوب نے اپنے الگورتھمز اور فیفا کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے دنیا بھر کے شائقین کو اپنی طرف راغب کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ورلڈ کپ روایتی ٹیلی ویژن سے ڈیجیٹل اسٹریمنگ کی طرف ایک "پوائنٹ آف نو ریٹرن” (Point of no return) ثابت ہوا ہے۔ 2 ارب ڈالر کی یہ بولیاں اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ اب فٹ بال شائقین اسکرین کے سامنے بیٹھنے کے بجائے اپنے موبائل فونز اور اسٹریمنگ ایپس پر میچز دیکھنا زیادہ پسند کر رہے ہیں۔

