تحریر : میاں حبیب
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے خطے کے ان چھ ممالک کو ٹارگٹ کیا ہے جہاں امریکی اڈے یا امریکی تنصیبات ہیں ان میں متحدہ عرب امارات، اردن، کویت، بحرین اور عمان شامل ہیں امریکنوں نے ایک بار پھر اپنے مراکز بند کرکے محفوظ جائے پناہ ڈھونڈنی شروع کر دی ہیں ابوظہبی میں امریکی سفارتخانہ اور دوبئی میں امریکی قونصل خانہ بند ہو چکا ہے امریکا نے آج سے دوبارہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان کر دیا ہے اس بار نہ صرف ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے بلکہ ٹرمپ نے وہاں سے گزرنے والے کارگو سے 20 فیصد فیس وصول کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے اس جنگ کے باعث خطے کی معیشتیں پہلے ہی ڈسٹرب تھیں اوپر سے آبنائے ہرمز کو تحتہ مشق بنانے سے خطے میں شدید اضطراب پایا جا رہا امریکا مختلف حربوں کے ذریعے ایران کو سرنڈر کرنے کی پوزیشن میں لانا چاہتا ہے جو کہ ممکن دکھائی نہیں دیتا امریکا ایران جنگ کے شعلے دوبارہ بھڑکنے سے فوری طور پر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے اور سٹاک مارکیٹوں پر بھی برا اثر پڑا ہے دنیا پہلے ہی معاشی بحران سے گزر رہی ہے اوپر سے تجارتی راہداری بند ہونے سے بحرانی کیفیت میں اضافہ ہو گا یقینی طور پر دنیا جنگ کے فریقین پر دباو ڈالے گی یورپی یونین نے تو کہہ دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں کسی صورت ٹول یا فیس کے حق میں نہیں ،چین اور روس نے بھی اس پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے
امریکا ایران جنگ کا محور اب آبنائے ہرمز کا کنٹرول بن چکا ہے ٹرمپ واضح طور پر کہہ چکا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول حاصل کر کے وہاں سے کمائی چاہتے ہیں جبکہ ایران نے بھی دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ وہ کسی کو آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنے کی اجازت نہیں دیں گے ایران نے متنبہ کیا ہے کہ تنازعہ پھیلا تو خطے کے تمام ممالک جنگ کی لپیٹ میں ہوں گے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دونوں فریقین اپنی انا سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں بظاہر اعصاب کی نظر آتی جنگ کیا رخ اختیار کر جائے کچھ پتہ نہیں کیونکہ اس جنگ کے اثرات بہت سارے ممالک بھگت رہے ہیں اور اس جنگ کے مکمل خاتمے تک نہ افراتفری ختم ہو سکتی ہے نہ معاشی حالات مستحکم ہو سکتے ہیں خاص کر عرب ممالک جو کہ امیر ترین ممالک میں شمار ہوتے تھے ان کی معیشتیں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں اور ایسے معلوم ہوتا ہے کہ امریکا کا ایران میں رجیم چینج کا ایجنڈا تبدیل ہو کر اب خطے کے تمام اسلامی ممالک کی معیشتوں کو تباہ کرنے کے درپے ہے اگر یہ جنگ طوالت اختیار کرتی ہے تو مڈل ایسٹ کے ممالک کو ناقابل تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ اس کے اثرات خطے کے دیگر ممالک جن میں پاکستان، انڈیا، چین، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، بھوٹان ،جاپان اور دیگر شامل ہیں میں توانائی کا بحران سنبھالا نہ جائے گا ان ہی خدشات کے پیش نظر ایک بار پھر فریقین سے رابطے شروع ہو چکے ہیں لیکن اب کوئی کسی پر اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں خاص کر امریکا نے معاہدوں کی پاسداری پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے اور ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ امریکا صرف ان معاہدوں کی پاسداری کرتا ہے جو اسے فائدہ پہنچاتے ہوں اور اس کے مخالفین کو تنگ کرنے کے لیے کیے جائیں عالمی ادارے بےبس اور بےمعنی ہو کر رہ گئے ہیں کوئی فورم امریکا سے یہ پوچھنے کی جرآت نہیں رکھتا کہ آپ کس اصول قانون کے تحت آبنائے ہرمز سے فیس وصول کر سکتے ہیں اور کس اصول کے تحت آپ آبنائے ہرمز کا کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں

