تحریر محمد اشفاق پسرور
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
جبکہ میں (محمد اشفاق ) خود بلوچستان میں 12 سال سے مقیم رہا تھا بلوچستان ایک جنت نظیر ایریا ہے اس کو تباہ و برباد کرنے کے لیے کئی شر پسند عناصر ملوث اورمتحرک ہیں
بی ایل اے کو اور اس کی انڈر کور بہنوں کو محرومی کیخلاف جنگ لڑنے والے مجاہد سمجھنے والوں سے عرض ہے کہ آپ لوگ زرا ان دہشتگردوں کی اپنی جاری کردہ ویڈیوز کا جائزہ لے لیں ۔ ان کے پاس جدید اسالٹ رائفلیں، راکٹ لانچر، نائٹ ویژن آلات، ڈرونز، ہائی ڈیفینیشن کیمرے، سیٹلائٹ کمیونیکیشن کا سامان، منظم اور مسلسل متحریک میڈیا ونگ، باقاعدہ پروپیگنڈا مشینری،ڈاکیومنٹری انداز میں تیار کی گئی ویڈیوز اور ٹرک بھر بھر کر دھماکا خیز مواد اور کروڑوں کی گاڑیاں کہاں سے آئیں؟ یہ سب کچھ کسی محروم زدہ اور غربت زدہ تحریک کی پہچان نہیں بلکہ ایک منظم عسکری نیٹ ورک کی علامت ہے۔
ایسی لاجسٹکس کے لیے مسلسل مالی وسائل، تربیت، سپلائی چین، اسلحے کی ترسیل، محفوظ پناہ گاہیں، انٹیلی جنس، مواصلاتی نظام اور منظم منصوبہ بندی درکار ہوتی ہے، تو کون ان کو دے رہا ہے یہ سب؟
ان دہشتگردوں کا بیانیہ ہے کہ بلوچستان نو گو ایریا ہے سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں لوگوں کے پاس کھانے کو کچھ نہیں گاڑی تو دور کی بات ، لیکن انہی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے سڑکوں کا بہترین نظام ہے، بجلی کی ٹرانسمیشن لائنز ، کمیونیکشن ٹرانسمیشن لائنیں موجود ہیں،لوگ پرائیویٹ گاڑیوں میں آ جا رہے ہیں، انٹر سٹی ٹریفک روانی سے جاری ہے جس میں اچانک یہ زومیز آ کر اپنی شرپسندی سے خلل ڈال دیتے ہیں سڑکوں اور ٹرانسمشن لائنز کو دھماکوں سے اڑا دیتے ہیں، بسوں کو روک کر بے گناہوں کی شناخت کر کے انہیں قتل کر دیتے ہیں اور پورے علاقے کو خوف کی علامت بنا دیتے ہیں۔انہیں بلوچ عوام کی ترقی سے نہیں، بلوچستان کے جلتے رہنے سے فائدہ پہنچتا ہے، یہ خود محروم نہیں ہیں یہ بلوچستان کو محروم رکھنا چاہتے ہیں ،بلوچستان میں امن انکی موت ہے۔ان کا بیانیہ جھوٹا ہے ان کا مقصد ناپاک ہے انکے عزائم غلیظ ہیں یہ کوئی بلوچیت کے علمبردار نہیں یہ بربادی کے بیوپاری ہیں اور ان کا علاج کوئی مذاکرات نہیں ان کا حل وہی ہتھیار ہے جس سے یہ معصوموں کا قتل عام کرتے ہیں کیونکہ مذاکرات ان سے کئے جاتے ہیں جو آپ کی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے آپ سے بات کرے ،نہ یہ ریاست پاکستان کو تسلیم کرتے ہیں نہ آئین پاکستان کو نہ ہی اسکے عوام کو۔
وقت آ گیا ہے کہ ان کی سپلائی چین مکمل توڑی جائے، ان کا میڈیا پراپیگنڈا ختم کیا جائے، تمام توانائیاں اپوزیشن پر نہیں انکی بیخ کنی میں لگا دی جائیں ۔


