تحریر : اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

”بے نقاب نیوز” کو حاصل ہونے والی مصدقہ معلومات کے مطابق، جنوبی پنجاب اس مجرمانہ نیٹ ورک کا سب سے بڑا گڑھ بن چکا ہے، جہاں صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت پنجاب بھر میں ساڑھے تین ہزار سے زائد خطرناک ترین ملزمان "سرکاری وردی” پہن کر پناہ لیے ہوئے ہیں اور عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے ماہانہ تنخواہیں بھی وصول کر رہے ہیں۔ پنجاب کے مختلف اضلاع میں بھرتی ہونے والے ان سنگین مجرموں کے چونکا دینے والے اعدادوشمار کے مطابق، صرف لاہور میں 800 ملزمان ستھرا پنجاب میں بھرتی ہوئے، جبکہ دیگر اضلاع میں وہاڑی سے 250، بہاولنگر سے 167، ساہیوال سے 123، قصور سے 111، لودھراں سے 110، خوشاب سے 100، بہاولپور سے 90، فیصل آباد سے 60، گوجرانوالہ سے 36 اور راولپنڈی سے 13 ہارڈ کور مجرم اس منصوبے کا حصہ بن چکے ہیں۔
اس تہلکہ خیز انکشاف کے بعد سیکیورٹی اور انتظامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے، جس پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے معاملے کی سنگینی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے انٹیلی جنس اداروں کو جامع تحقیقات اور تفصیلی رپورٹ فوری پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ اس تحقیقات کا بنیادی مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ بھرتیوں کے دوران سیکیورٹی جانچ اور پولیس تصدیق کے عمل کو کس کے اشارے پر پسِ پشت ڈالا گیا، اور اس لاپرواہی کے ذمہ دار انتظامی افسران کا تعین کر کے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا سی سی ڈی اور اعلیٰ پولیس حکام ان سرکاری وردی پوش مجرموں کو سلاخوں کے پیچھے دھکیلنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا یہ مجرم قانون کا مذاق اڑاتے رہیں گے۔
پڑھے لکھے نوکریوں سے محروم، سنگین مقدمات میں ملوث افراد کی بھرتیوں پر وزیراعلیٰ کا تحقیقات کا حکم

